بین الاقوامی کرکٹ بحال کرانے کی کوشش

ذکاء اشرف تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’میرا کام تو صرف یہ دیکھنا ہے کہ بورڈ میں سب لوگ اپنا اپنا کام درست طریقے سے کریں‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے کہا ہے کہ بھارتی ٹیم اپنی وزارت خارجہ سے اجازت ملنے کے بعد ہی پاکستان کا دورہ کر سکے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ یا پی سی بی کے چیئرمین ذکا اشرف نے حیدر آباد سندھ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بحال کرانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس سلسلے میں اقدامات کرتے ہوئے بنگلہ دیش سےابتداء کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی سیکورٹی ٹیم جنوری میں ہی پاکستان کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لے گی۔

نامہ نگار علی حسن کے مطابق ذکا اشرف حیدرآباد میں نیاز سٹیڈیم کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سکیورٹی کے معاملے پر سبھی پریشان رہتے ہیں اور خوف زدہ ہوتے ہیں۔

بھارتی ٹیم کی پاکستان آمد کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے انڈیا کے بورڈ کے سربراہ سے گفتگو کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں اس معاملے پر وزارتِ خارجہ سے اجازت لینا ہوتی ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ محسن حسن خان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پی سی بی کے سربراہ نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک اچھے کھلاڑی رہے ہیں لیکن وہ بنیادی طور پر کوالیفائڈ کوچ نہیں ہیں جب کہ آج دنیا میں پروفیشنل ازم ہے اور اس کے تحت ہی کام ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک کوچ کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور یہ فیصلہ سلیکشن کمیٹی کرے گی۔

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی میں مایہ ناز کرکٹر شامل ہیں اور انہیں صرف ایک ہی ہدایت ہے کہ نمبر ون ٹیم تیار کریں اور خرچ کی فکر نہ کریں۔

ذکاءاشرف نے کہا کہ وہ خود کارپوریٹ سیکٹر کے آدمی ہیں اور کسی کے کام میں مداخلت نہیں کرتے۔ ان کا کام تو صرف یہ دیکھنا ہے کہ بورڈ میں سب لوگ اپنے اپنے کام درست کریں۔

انہوں نے کہا کہ نیاز سٹیڈیم سے انہیں بھی انسیت ہے کیونکہ وہ خود اپنے بچپن میں اس سٹیڈیم میں کھیلتے رہے ہیں۔