دھونی کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اشارہ

دھونی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دھونی یک روزہ میچوں میں زیادہ موثر ثابت ہوئے ہیں

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر انہیں دو ہزار پندرہ کے عالمی کپ میں حصہ لینا ہے تو انہیں کھیل کے کسی ایک ’فارمیٹ’ سے ریٹائر ہونا پڑے گا۔

یہ انکشاف انہوں نےآسٹریلیا کے شہر پرتھ میں تیسرے ٹسیٹ میچ سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل دھونی نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں وہ کوئی فیصلہ دو ہزار تیرہ کے اواخر میں کریں گے۔

ان کے بیان کا یہ مطلب نکالا جارہا ہے کہ کرکٹ کے بے حد مصروف کیلنڈر کو دیکھتے ہوئے دھونی ٹیسٹ میچوں کو خیر باد کہہ سکتے ہیں۔

بھارتی ٹیم آسٹریلیا کے دورے پر ہے جہاں اس کی کارکردگی اب تک انتہائی مایوس کن رہی ہے اور اسے آسٹریلیا نے پہلے دونوں ٹیسٹ میچوں میں بہ آسانی ہرایا ہے۔

دھونی اب تک چھیاسٹھ ٹیسٹ کھیل چکے ہیں۔ ان میں سے چھتیس میں انہوں نے کپتانی کی ہے اور ان کی سربراہی میں بھارت نے سترہ ٹیسٹ جیتے ہیں۔

بھارتی ٹیم کو خراب کارکرگی کے پیش نظر سخت تنقید کا سامنا رہا ہے لیکن پریس کانفرنس میں جب انہوں نے کہا کہ ’اگر مجھے دو ہزار پندرہ کے عالمی کپ تک کھیلنا ہے تو مجھے ایک فارمیٹ (طرز) سے ریٹائر ہونا ہوگا۔’

دھونی سے پہلے بھی کئی سرکردہ کھلاڑی اپنے کریئر کو لمبا کرنے کے لیے ٹیسٹ یا ایک روزہ میچوں سے ریٹائر ہونے کی حکمت عملی اختیار کر چکے ہیں۔ آسٹریلیا کے لیگ سپنر شین وارن نے بھی اسی طرح پہلے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لیا تھا۔

دھونی کی عمر تیس سال ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ وہ ایک روزہ میچوں میں بحیثیت بیٹسمین اور کپتنان بہت موثر ثابت ہوئے ہیں لیکن بیرون ملک کھیلے جانے والے مسلسل چھ ٹیسٹ میچوں میں بھارتی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ٹیسٹ میچوں میں دھونی کی بیٹنگ پر بھی سوال اٹھائے جارہے ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اٹھتی ہوئی اور سوئنگ ہوتی ہوئی گیندوں کو کھیلنے میں انہیں کافی دشواری ہوتی ہے۔

اس سے پہلے دھونی نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میرا مطلب یہ تھا کہ دو ہزار تیرہ میں مجھے یہ دیکھنا ہوگا کہ میں جسمانی اعتبار سےکنتا فٹ ہوں اور یہ کہ کیا میں دو ہزار پندرہ کے عالمی کپ تک کھیل سکتا ہوں؟‘

’لیکن ظاہر ہے کہ فارم بھی بہت اہم پہلو ہے اور میرے خیال میں اگر دو ہزار چودہ میں اچانک مجھے لگتا ہے کہ میں عالمی کپ تک نہیں چل پاؤنگا اور اگر کوئی نیا نوجوان وکٹ کیپر سامنے آتا ہے جس نے صرف تیس ایک روزہ میچ کھیلے ہوں۔۔۔(تو میرے لیے کھیلتے رہنا) مناسب نہیں ہوگا‘۔

بھارتی کرکٹ ٹیم میں راہول ڈراوڈ اور سچن تندولکر کی عمر چالیس کے قریب پہنچ رہی ہے لیکن اس کے باوجود بیٹنگ لائن اپ میں ان کی جگہ کسی خطرے میں نہیں مانی جاتی۔

اسی بارے میں