پیرپگارا کا حنیف محمد کو مشورہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیرپگارا نے فرسٹ کلاس کرکٹ کا ایک میچ کھیلا تھا

پیرپگارا کا نام آتے ہی ظاہر ہے ذہن سیاست کی طرف ہی جاتا ہے اور اگران کی کھیلوں سے دلچسپی کی بات کی جاتی ہے تو اس میں بھی شکار اور گھڑدوڑ کا ذکر غالب رہتا ہے لیکن ان کا کرکٹ سے بھی گہرا تعلق رہا۔

پیرپگارا کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ سنہ انیس سو تریپن میں شروع ہونے والے پاکستانی کرکٹ کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ قائداعظم ٹرافی کے اولین میچ میں کھیلے تھے۔

وہ میچ بہاولپور اور سندھ کے درمیان ڈرنگ اسٹیڈیم بہاولپور میں کھیلا گیا تھا جس میں پیرپگارا نے سندھ کی ٹیم کی قیادت کی تھی۔

اتفاق سے وہ پیرپگارا کا واحد فرسٹ کلاس میچ بھی ثابت ہوا جس کی پہلی اننگز میں وہ صرف ایک رن بناکر امیر الہی کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ دوسری اننگز میں انہیں پندرہ رنز پر ذوالفقار احمد نے آؤٹ کیا تھا۔

اس میچ میں بہاولپور کی طرف سے کھیلتے ہوئے حنیف محمد نے سنچری بنائی تھی اور اننگز کے آغاز سے اختتام تک ناٹ آؤٹ رہے تھے۔

حنیف محمد پیرپگارا کے بارے میں اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں’پیرپگارا کرکٹ کے بہت شوقین تھے اور جب وہ انگلینڈ پڑھنے گئے تھے وہاں بھی کرکٹ کھیلتے تھے۔ یہاں آنے کے بعد انہوں نے باقاعدہ ٹیم بنائی تھی جس میں مجھ سمیت اس دور کے کئی ٹیسٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹرز شامل تھے۔‘

انہوں نے کہا ’پیرصاحب کی رہائش کراچی جیمخانہ کے سامنے کلب روڈ پر ہوا کرتی تھی اور انہوں نے اپنے بنگلے میں باقاعدہ نیٹ لگارکھا تھا جہاں ہم تمام کھلاڑی روزانہ نیٹ پریکٹس کرتے تھے اور پھر میچز بھی کھیلا کرتے تھے اور ان ہی میچوں کے سلسلے میں حیدرآباد بھی جانا ہوا جہاں رانی باغ اس وقت کرکٹ میچوں کا واحد مرکز ہوا کرتا تھا۔‘

پیرپگارا نے جنوری سنہ انیس سو چھپن میں پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی ایم سی سی کی ٹیم کے خلاف بھی حیدرآباد میں ایک میچ کھیلا تھا۔

دراصل ایم سی سی اور سندھ کا سہ روزہ میچ بارش سے متاثر ہوگیا تھا لہذٰا شائقین کی دلچسپی کے لیے محدود اوورز کا ایک میچ کھیلا گیا جس میں ایم سی سی کی ٹیم پیرپگارا الیون کے خلاف کھیلی تھی۔

لٹل ماسٹر حنیف محمد کو پیرپگارا کا وہ مشورہ آج تک اچھی طرح یاد ہے جو انہوں نے سنہ نیس سو چون میں انگلینڈ کے دورے سے قبل دیا تھا۔

’میں معمول کے مطابق پیرصاحب کے ساتھ نیٹ پریکٹس کرتا تھا۔ ایک دن پیرصاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ انگلینڈ جارہے ہیں جہاں بادل آجاتے ہیں اور روشنی کم ہوجاتی ہے ایسے میں بیٹنگ آسان نہیں ہوتی لہذٰا آپ یہاں پر نیٹ پریکٹس کے دوران اسوقت دوبارہ بیٹنگ کریں جب مغرب کا وقت ہونے لگے اور روشنی کم ہو تاکہ جب آپ انگلینڈ جائیں تو ایسی صورتحال میں پریشانی نہ ہو۔‘

حنیف محمد کو وہ واقعہ بھی یاد ہے جب پیرپگارا نے رانی باغ میں تماشائیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اسٹمپ اٹھا کر پھینکی تھی جو ایک لڑکے کو لگی تھی لیکن کسی نے بھی اس کا برا ماننے کے بجائے اس لڑکے کو نصیب والا قرار دیا تھا کہ پیرصاحب نے لکڑی اٹھا کر اسے ماری ہے اور وہ لڑکا بہت مشہور ہوگیا تھا۔

پیرپگارا اور نواز شریف دونوں میں سیاست کے علاوہ یہ بات قدر مشترک رہی کہ انہوں نے صرف ایک فرسٹ کلاس کرکٹ میچ کھیلا اور پیرپگارا ان سے اسطرح بازی لے جاتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے دو اننگز کھیل کر سولہ رنز بنائے جبکہ وزارت عظمٰی کی دو باریاں لینے والے نواز شریف نے سنہ انیس سو چوہتر میں کرکٹ کے میدان میں ایک ہی اننگز کھیلی جس میں وہ صفر پر آؤٹ ہوگئے۔

اسی بارے میں