آفریدی اقوامِ متحدہ کے خیرسگالی سفیر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میں نے کوئی کام کبھی ادھورا نہیں چھوڑا: شاہد آفریدی

پاکستانی کرکٹ کے مایہ ناز بیٹسمین شاہد آفریدی کو اقوامِ متحدہ کے انسدادِ منشیات کے ادارے (یو این او ڈی سی) کے لیے قومی خیرسگالی سفیر مقرر کیا گیا ہے۔

شاہد آفریدی کو یہ عہدہ کھیل میں ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔

سنہ انیس سو چھیانوے میں سولہ سال کی عمر میں آفریدی نے اپنے ایک روزہ بین الاقوامی پہلے میچ میں تاریخ کی تیز ترین سینچری بنائی تھی۔ ’بُوم بُوم‘ آفریدی اپنے مداحوں میں وکٹ کو بچانے کی بجائے رنز کی بارش کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

پاکستان میں یو این او ڈی سی کے نمائندے جرمی ڈگلس نے کہا ’وہ دل سے کھیلتے ہیں۔ وہ منشیات کے استعمال کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے رول ماڈل ہیں۔ نوجوان ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح بال باؤنڈری کے باہر پھینکتے ہیں اور مشکل حالات سے کیسے مقابلہ کرتے ہیں۔‘

شاہد آفریدی نے دو سال کے لیے خیرسگالی سفیر کا منصب قبول کرتے ہوئے کہا ’میں نے کوئی کام کبھی ادھورا نہیں چھوڑا اور میں اپنے نئے عہدے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہوں۔ مجھے منشیات سے نفرت ہے جو نوجوانوں کی زندگیاں برباد کردیتی ہے۔ اگر میں صرف ایک لڑکے یا لڑکی کو قائل کرسکوں کہ وہ منشیات چھوڑ دے تو مجھے فخر ہوگا۔‘

شاہد آفریدی سکول اور کالجوں کے دوروں کے دوران کھیلوں کی سرگرمیوں کے علاوہ مثبت رویّوں اور اقدار کو بھی اجاگر کریں گے۔ سنہ دو ہزار بارہ میں وہ پاکستان میں یو این او ڈی سی کے کام کا بغور جائزہ لیں گے اور منشیات اور اس سے جڑے جرائم کے سدِّباب کی ضرورت کی تشیہر کریں گے۔

توقع ہے کہ وہ کئی سرگرمیوں میں بذاتِ خود حصہ لیں گے جن میں نوجوانوں کے کرکٹ ٹورنامنٹ، انسدادِ منشیات کے عالمی دن پر تقریبات، کھیل میں اخلاقیات کی اہمیت اور منشیات اور ایچ آئی وی اور ایڈز کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔

شاہد آفریدی کراچی میں رہائش پذیر ہیں جبکہ ان کا تعلق صوبۂ خیبر پختونخوا سے ہے اور یہ انہیں پاکستان کے اہم علاقوں میں ایک منفرد مقام دیتا ہے۔

انہوں نے ستائیس ٹیسٹ میچ، تین سو پچیس ایک روزہ بین الاقوامی میچ اور تینتالیس ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے ہیں جبکہ انہیں ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کا اعزاز حاصل ہے۔ سنہ دو ہزار گیارہ میں پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم ان کی قیادت میں ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

اسی بارے میں