پاکستانی چیلنج غیر متوقع نہیں:ایئن بیل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انگلش بلے باز آخری میچ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے بےتاب ہیں: ایئن بیل

انگلش کرکٹ ٹیم کے رکن ایئن بیل کا کہنا ہے کہ پاکستانی سپنرز نے جو شاندار کارکردگی دکھائی ہے اسے نہ سراہنا زیادتی ہوگی لیکن آخری ٹیسٹ میں ہر بیٹسمین رنز بنانے کے لیے بے تاب ہے۔

انگلش بلے باز کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے سے اندازہ تھا کہ انگلش ٹیم کو اس سیریز میں پاکستان کے سخت چیلنج کا سامنا کرنا ہوگا۔

ایئن بیل اپنے دوسرے ساتھی بیٹسمینوں کی طرح پاکستانی سپنرز کے جال میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور چار اننگز میں صرف چھتیس رنز بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔

ایئن بیل نے کہا کہ یقیناً موجودہ صورتحال ان کے لیے اور انگلش ٹیم کے لیے مایوس کن ہے۔

برصغیر میں انگلینڈ کی ٹیم کبھی بھی اچھا نہیں کھیلی اس کے برعکس اس کی کارکردگی ہر جگہ شاندار رہی ہے۔ اب وہ آخری ٹیسٹ کو پہلے دو سے مختلف بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کیونکہ اس کے بعد بھی انگلینڈ کو اس خطے میں بہت زیادہ کرکٹ کھیلنی ہے اور عالمی نمبر ایک کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے انہیں اپنے کھیل میں غیرمعمولی بہتری لانی ہوگی۔

بیل نے کہا کہ ہر کھلاڑی اپنے ملک کی طرف سے کھیلنے میں فخر محسوس کرتا ہے لہذا ہر کوئی چاہتا ہے کہ آخری ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔

بیل نے کہا کہ ’جب آپ اعلی معیار کی سپن بولنگ کا سامنا کرتے ہیں تو اس کے لیے وکٹ پر ٹھہرنا ضروری ہوتا ہے جو اس سیریز میں انگلش بیٹسمین نہ کر سکے‘۔

ان کے مطابق ’سعید اجمل اور عبدالرحمن نے شاندار بولنگ کی لیکن انگلینڈ کی ٹیم کا اعتماد متاثر نہیں ہوا ہے بلکہ اب بھی اس کا انداز مثبت اور جارحانہ ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ پچیس تیس گیندیں کھیل جائیں اور خود کو اس دباؤ سےنکال لیں‘۔

بیل کو دبئی اور ابوظہبی کی پچز سے کوئی شکایت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ میچز کے لیے موزوں وکٹیں تیار کی گئی تھیں۔ اچھی وکٹیں وہی ہوتی ہیں جہاں رنز کی بھرمار نہ ہو بلکہ دلچسپ کرکٹ دیکھنے کو ملے۔

اسی بارے میں