محسن خان کو پاکستانی بیٹنگ پر تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی بیٹسمینوں نے غیرضروری شاٹس کھیلے جسے ذمہ دارانہ نہیں کہا جاسکتا: محسن خان

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ محسن خان نے بیٹسمینوں کی مجموعی کارکردگی پر تشویش ظاہر کی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ بیٹسمین بڑی اننگز کھیلیں۔

واضح رہے کہ دبئی کے تیسرے ٹیسٹ کے پہلے دن پاکستانی ٹیم صرف ننانوے رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

اب تک اس سیریز میں پاکستانی ٹیم صرف ایک مرتبہ تین سو سے زائد رنز بنانے میں کامیاب ہوسکی ہے۔

محسن خان کا کہنا ہے کہ بیٹسمینوں کو چاہیے کہ وہ تیس یا چالیس رنز کی اننگز کو سنچری میں تبدیل کریں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹسمینوں نے غیرضروری شاٹس کھیلے جسے ذمہ دارانہ نہیں کہا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بیٹنگ کی ناکامی کا دفاع نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی ایک بڑی وجہ دونوں ٹیموں کا زبردست بولنگ اٹیک ہے جس کے سامنے بیٹسمینوں کے لیے رنز بنانا آسان نہیں ہو رہا ہے۔

انہوں نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ پاکستانی ٹیم پہلے بیٹنگ کر کے ایک بڑا سکور کرتی اور پھر انگلش بیٹنگ پر دباؤ ڈالا جاتا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

محسن خان نے کہا کہ سیریز سے قبل بھی ان سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ کیا یہ سیریز سپنرز یا فاسٹ بولرز کی سیریز ہوگی تو اس وقت بھی انہوں نے یہی بات کہی تھی کہ یہ سیریز دونوں ٹیموں کے بیٹسمینوں کے لیے آزمائش ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ابوظہبی اور دبئی کی وکٹوں پر سٹروکس کھیلنا آسان نہیں ہے۔

محسن خان نے کہا کہ ننانوے پر آؤٹ ہونے کے بعد ٹیم بہت ہی مشکل میں تھی لیکن پہلے دن انگلینڈ کی چھ وکٹیں حاصل کر کے اس نے فائٹ بیک کی ہے اور اب بیٹسمینوں کو دوسری اننگز میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس ٹیم کی خاص بات یہ ہے کہ وہ آخر وقت تک مقابلہ کرتی ہے اور اس میچ میں بھی وہ ایسا ہی کرے گی۔

محسن خان نے ڈی آر ایس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے غلط فیصلوں کو کم سے کم کرنے میں مدد ملی ہےکیونکہ ایک غلط فیصلہ پورے میچ کا نقشہ بدل دیتا ہے۔

اسی بارے میں