مزید چار سال کھیل سکتا ہوں:یونس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

دبئی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں سنچری بنانے والے یونس خان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی فارم اور فٹنس برقرار رہی تو مزید چار سال تک انٹرنیشنل کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔

یونس خان اپنے تجربے کی بدولت اس وقت پاکستانی بیٹنگ لائن میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں

واضح رہے کہ یونس خان کا بین الاقوامی کیریئر خاصا ہنگامہ خیز رہا ہے۔

دو ہزار نو میں وہ سیاسی ایوانوں میں اپنے خلاف اٹھنے والی آواز پر اتنے دلبرداشتہ ہوئے تھے کہ کپتانی چھوڑی دی۔ بعدازاں پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں ٹیم سے باہر کر دیا اور وہ تقریباً آٹھ ماہ بین الاقوامی کرکٹ سے دور رہے تاہم واپسی کے بعد سے وہ ایک بار پھر پاکستانی ٹیم کی جیت میں اپنا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں۔

چونتیس سالہ یونس خان دبئی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں صرف چار رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو انہوں نے خود اپنے آپ پر غصہ ظاہر کیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ سے خفا تھے اور چاہتے تھے کہ اس ناکامی کا دوسری اننگز میں ازالہ کریں جس میں انہیں کامیابی ہوئی۔

یونس خان کہتے ہیں کہ اس سیریز میں دو مرتبہ انہوں نے اچھا آغاز کیا لیکن لمبی اننگز نہ کھیل سکے تھے اور وہ سوچ رہے تھے کہ ایسا کام کرجائیں جو کسی دوسرے نے نہ کیا ہو اور وہ اس سیریز میں سنچری بنانے والے پہلے بیٹسمین بن گئے ہیں۔

یونس خان کا کہنا ہے کہ دوسری اننگز میں انہوں نے مثبت اور جارحانہ انداز میں بیٹنگ کی اور بولرز کو حاوی نہیں ہونے دیا۔

یونس خان کہتے ہیں کہ اس وقت ٹیم مجموعی طور پر بہت اچھی ہے جس میں وہ اور مصباح الحق سینئر ہونے کے ناتے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں اور اپنی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اظہر علی اسد شفیق اور دوسرے نوجوان بیٹسمینوں کی بھی رہنمائی کرتے ہیں۔

یونس خان نے کہا کہ اظہرعلی صورتحال کے مطابق بیٹنگ کرنے والے باصلاحیت بیٹسمین ہیں جن کے ساتھ بیٹنگ کرنے میں مزا آتا ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے رہتے ہیں۔

یونس خان کے خیال میں تیسرے دن بھی پاکستانی بیٹسمینوں کو ذمہ داری سے بیٹنگ کرتےہوئے انگلینڈ کو بڑا ہدف دینا ہوگا۔ اگر ایسا ہوگیا تو بولرز میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ پاکستان کو کلین سوئپ سے ہمکنار کرسکیں۔

اسی بارے میں