پاکستان کا انگلینڈ کے خلاف تاریخی کلین سویپ

سعید اجمل تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سعید اجمل مین آف دی سیریز قرار پائے

پاکستان نے عالمی نمبر ایک انگلینڈ کو دبئی کے تیسرے ٹیسٹ میں اکہتر رن سے ہرا کر کلین سویپ کر لیا ہے۔

پاکستان نے دبئی میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ دس وکٹوں سے جیتا تھا جبکہ ابوظہبی میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں اس نے بہّتر رن سے کامیابی حاصل کی تھی۔

انگلینڈ پاکستان کرکٹ کی اٹھاون سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ٹیم نے سیریز کے تمام ٹیسٹ جیتے ہیں۔

تفصیلی سکور بورڈ

پاکستان نے پانچویں مرتبہ کسی ٹیم کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں وائٹ واش پر مجبور کیا ہے۔آخری بار اس نے 2003 میں بنگلہ دیش کے خلاف کلین سویپ کیا تھا۔

انگلینڈ کو 2006 کی ایشز کے پانچوں ٹیسٹ ہارنے کے بعد پہلی مرتبہ سیریز کے تمام ٹیسٹ ہارکر وائٹ واش پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ مجموعی طور پر انگلینڈ کی ٹیم ساتویں مرتبہ وائٹ واش کا شکار ہوئی ہے۔

پیر کو انگلش بیٹنگ ایک بار پھر پاکستانی بولنگ کے سامنے بے بسی کا منظر پیش کرتی رہی اور پوری ٹیم دو سو باون رن بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

سعید اجمل اور عمرگل کی انتہائی جارحانہ بولنگ نے جیت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ دونوں نے چار چار وکٹیں حاصل کیں۔

عبدالرحمن نے دوکھلاڑی آؤٹ کیے۔ سعید اجمل نے سیریز کا اختتام 24 وکٹوں کی شاندار کارکردگی پر کیا۔ عبدالرحمن نے سیریز میں انیس اور عمرگل نے گیارہ وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان نے مصباح الحق کی کپتانی میں پندرہ ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں جن میں سے نو جیتے ہیں اور صرف ایک میں اسے شکست ہوئی ہے۔

انگلینڈ نے چوتھے دن چھتیس رن پر اننگز شروع کی تو جیت کے لئے اسے مزید دو اٹھاسی رن بنانے تھے ابتداء میں ایسا لگا کہ پاکستانی فیلڈروں کے ڈراپ کیچ انگلینڈ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کافی ہونگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مصباح الحق پاکستانی کرکٹ کے کامیاب کپتانوں میں شامل ہو گئے ہیں

اینڈریو سٹراس کا چھبیس رنز پر آسان کیچ وکٹ کیپر عدنان اکمل نے گرا دیا۔ بدقسمت بالر عمرگل تھے تاہم انگلش کپتان اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور اسی سکور پر عبدالرحمن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

عبدالرحمن کی بدقسمتی کہ عمرگل نے ان کی گیند پر کک کا کیچ ڈراپ کر دیا اس وقت ان کا سکور اٹھائیس رن تھا۔ کک تیسرے دن بھی چار رن پر توفیق عمر کے شکرگزار تھے جنہوں نے عمرگل کی گیند پر سلپ میں آسان کیچ ڈراپ کر دیا تھا۔

کک دو ڈراپ کیچوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی ٹیم کے لئے دردسر بنتے جارہے تھے لیکن ان کی دو سو بیالیس منٹ میں انچاس رن کی اننگز سعید اجمل کی گیند پر سلپ میں یونس خان کے انتہائی شاندار کیچ پر ختم ہوگئی۔

سعید اجمل نے کیون پیٹرسن کو بھی پویلین کی راہ دکھائی۔ پیٹرسن اس سیریز کی چھ میں سے پانچ اننگز میں سپنروں کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ سیریز میں وہ انتہائی مایوس کن کارکردگی دکھاتے ہوئے محض سڑسٹھ رنز بناسکے۔

جوناتھن ٹراٹ اٹھارہ رنز بنانے کے بعد سعید اجمل کی گیند پر عبدالرحمن کو کیچ دے گئے۔

سپنروں کے بعد عمرگل نے بھی کاری ضرب لگائی اور ای این بیل اوئن مورگن سٹورٹ براڈ اور گریم سوآن کو پویلین بھیج کر پاکستان کی جیت کا راستہ کھول دیا۔

ای این بیل اور مورگن کے لیے بھی یہ سیریز اچھی خواب ثابت ہوئی۔ دونوں چھ چھ اننگز میں باالترتیب اکاون اور بیاسی رنز بناسکے۔

میٹ پرائر کی مزاحمت نے کافی دیر تک پاکستان کو جیت سے دور رکھا لیکن چائے کے وقفے کے بعد سعید اجمل سلپ میں یونس خان کے کیچ کی مدد سے جیمز اینڈرسن کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

پاکستانی ٹیم کے لیے تاریخی لمحہ اس وقت آیا جب عبدالرحمن نے مونٹی پنیسر کو آٹھ رن پر ایل بی ڈبلیو کرکے جیت پر مہر تصدیق ثبت کردی۔

اسی بارے میں