مصافحہ نہ کرنے پر ساریز معافی کے طلبگار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لوئی ساریز اور پٹریس ایورا کے بیچ تناؤ گزشتہ اکتوبر سے جاری ہے

انگلش فٹبال کلب لیور پول سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی لوئی ساریز نے فٹبال میچ کے آغاز سے قبل مخالف ٹیم کے ایک سیاہ فام کھلاڑی سے مصافحہ نہ کرنے پر معافی مانگ لی ہے۔

یہ واقعہ سنیچر کو انگلش پریمیئر لیگ میں لیورپول اور مانچسٹر یونائیٹڈ کی ٹیموں کے مابین کھیل گئے میچ سے قبل پیش آیا تھا۔

میچ کی ابتدائی تقریبات میں لوئی ساریز نے مانچسٹر یونائیٹڈ کے سیاہ فام کھلاڑی پٹریس ایورا سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا تھا۔

برطانوی حکومت میں ثقافتی امور کے سیکرٹری جیریمی ہنٹ کا کہنا ہے کہ فٹبال انتظامیہ کو کھیل میں نسل پرستی کو بالکل برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے ساریز کی حرکت کو کھیل کی اقدار کے منافی قرار دیا۔

انہوں نے کہا ’اصول کسی بھی ایک کھلاڑی سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ (فٹبال کے نگران ادارے) ایف اے کو لوئی ساریز کے معاملے پر سخت اور واضح ہدایات دینی ہوں گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں‘۔

یاد رہے کہ لوئی ساریز نے اکتوبر میں پٹریس ایورا کو انتہائی طنزیہ اور نسل پرست الفاظ سے مخاطب کیا تھا جس کے نتیجے میں ان پر آٹھ مہینے کی پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس پابندی کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ دونوں کھلاڑی آمنے سامنے آئے تھے۔

ادھر برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون اعلٰی سطح کا ایک اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد فٹبال کے کھیل میں نسل پرستی کے واقعات کا جائزہ لینا ہوگا۔

وزیرِاعظم کیمرون نے یہ فیصلہ برطانیہ میں فٹبال کے میدان پر چند کھلاڑیوں کی جانب سے حال ہی میں چند نسل پرستانہ اقدامات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔

توقع ہے کہ اس اجلاس میں کھلاڑیوں کے نمائندے اور فٹبال کے نگران اداروں کے حکام شرکت کریں گے۔

جیریمی ہنٹ بھی کھیل میں نسل پرستی کے معاملات پر تبادلۂِ خیال کرنے کے لیے وزیرِاعظم کے اجلاس میں شرکت سے پہلے ان سے ملاقات کریں گے۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے اس معاملے میں کافی ترقی کی ہے بلکہ ہم معاشرتی طور پر نسل پرستی پر جو قابو پا سکے ہیں ان میں فٹبال کا اہم کردار ہے‘۔

انگلینڈ کے سابق کپتان جان ٹیری سے وابستہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ جب تک جرم ثابت نہیں ہوتا انگلش فٹبال ٹیم کے سابق کپتان جان ٹیری بے قصور ہیں لیکن وہ پھر بھی جان ٹیری سے کپتانی لیے جانے کی حمایت کرتے ہیں۔

جان ٹیٹری پر ایک واقعہ میں نسلی مغلظات استعمال کرنے کا الزام ہے اور اس سلسلے میں ان کو جولائی میں مقدمے کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ اس معاملے کی وجہ سے انہیں انگلش فٹبال ٹیم کی کپتانی سے ہٹا دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں