دانش کنیریا پر بھی الزام

دانش کنیریا تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’سن دو ہزار آٹھ میں آئی سی سی نے دانش کنیریا کی صحبت کو انتہائی نامناسب قرار دیا تھا‘

پاکستان کے سابق سپن بالر دانش کنیریا پر انگلینڈ کی کاؤنٹی کرکٹ میں سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ انہیں اس مقدمے میں حراست میں لیا گیا تھا لیکن ان پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔

لندن میں اولڈ بیلی کی عدالت میں ایک مقدمے کی سماعت دوران عدالت کو بتایا گیا کہ دانش کنیریا نے ایسکس کے ایک کھلاڑی کو سپاٹ فکسنگ پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا۔

تفصیلات کے مطابق سپاٹ فکسنگ کا یہ مبینہ واقعہ ستمبر دو ہزار نو میں درہم اور ایسکس کے درمیان میں پیش آیا۔ مقدمے کے ایک کردار ایسکس کے فاسٹ بالر مرون ویسٹ فِیلڈ نے ہدایات کے مطابق بالنگ کروانے کے عوض چھ ہزار پاؤنڈ وصول کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

الزام کے مطابق یہ سودا ایسکس کے ہی دانش کنیریا کے ذریعے کروایا گیا۔ استغاثہ تفصیلات کے مطابق یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ایسکس کے ہی ایک اور کھلاڑی ٹونی پلادینو ویسٹ فیلڈ کے فلیٹ پر گئے جہاں فاسٹ بالر نے انہیں پیسے دکھائے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ دانش کنیریا کو، جنہوں نے سن دو ہزار پانچ میں ایسکس کی ٹیم میں شمولیت اختیار کی تھی، دو ہزار آٹھ میں آئی سی سی نے متنبہ کیا تھا کہ وہ ’انتہائی نامناسب صحبت‘ میں وقت گزار رہے ہیں۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سن دو ہزار نو میں مرون ویسٹفیلڈ کو ایسکس کی ٹیم میں جگہ بنانے میں مشکل پیش آ رہی تھی اور ان کو ایسے کام پر آمادہ کرنا آسان تھا۔

وکیل نے کہا کہ دانش کنیریا ویسٹفیلڈ کو دیگر لوگوں کے ساتھ کھانے پر لے کر گئے اور ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ سپاٹ فکسنگ میں شامل ہو جائیں اور اس طرح وہ زیادہ تیزی سے پیسے کما سکتے ہیں۔

وکیل کے مطابق میچ سے ایک روز پہلے اکیس سالہ ویسٹفیلڈ کو بتایا گیا تھا کہ بہت سے لوگوں نے اس میچ پر شرط لگائی ہے اور اگر انہوں نے تعاون نہ کیا تو ان لوگوں کو نقصان ہو گا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ایسکس کی ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں نہ بھی دانش کنیریا کے منہ سے سپاٹ فکسنگ کا لفظ سنا تھا لیکن انہوں نے اس کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ ورون چوپڑا نے بتایا کہ دانش کنیریا نے ایک بار فون پر انہیں کہا تھا کہ پیسے کمانے کے اور بھی ذرائع ہیں اور اس کے لیے میچ بھی نہیں ہارنا پڑتا۔

اسی بارے میں