بھارتی کرکٹ ٹیم میں اندرونی اختلافات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارتی کرکٹ ٹیم میں اختلافات اب سامنے آنے لگے ہیں

جو بات کافی عرصے سے دبے الفاظ میں کہی جارہی تھی وہ اب منظر عام پر آگئی ہے اور خود ویریندر سہواگ نے اس بات کا واضح عندیہ دیا ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم اندرونی چپقلش کا شکار ہے۔

بظاہر ان اختلافات کا ایک پہلو وہ ’روٹیشن پالیسی‘ ہے جو کپتان مہیندر سنگھ دھونی نے اختیار کی ہے اور جس کے تحت ٹیم کے تین سینئر ترین کھلاڑیوں، سچن تیندولکر، گوتم گمبھیر اور خود ویرندر سہواگ، کو یکے بعد دیگرے ٹیم میں شامل نہ کرکے ’ریسٹ‘ دیا جارہا ہے۔

آسٹریلیا میں جاری سہ ملکی سیریز میں منگل کو سری لنکا کے خلاف بھارتی ٹیم کی کپتانی سہواگ نے کی اور سیریز میں پہلی مرتبہ تینوں بڑے کھلاڑیوں کی موجودگی کے باوجود اکاون رن سےہارنے کے بعد جب سہواگ نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا تو ایک ایسی ٹیم کی تصویر سامنے آئی جس میں نہ صرف حکمت عملی پر اختلافات ہیں بلکہ سینئر کھلاڑی انہیں دور کرنے کی کوشش تک کے لیے تیار نہیں ہیں۔ آئی سی سی کی پابندی کی وجہ سے کپتان مہیندر سنگھ دھونی اس میچ میں نہیں کھیل سکے تھے۔

ٹیم میں اختلافات کی قیاس آرائی تو کافی عرصے سے گردش کر رہی ہے لیکن گزشتہ ہفتے جب دھونی نے تندولکر، سہواگ اور گمبھیر کو ’سست فیلڈر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تینوں کو ایک ساتھ ٹیم میں شامل نہیں کیا جاسکتا، تو یہ بات تقریباً طے مانی جانے لگی کہ ٹیم میں ناراض کھلاڑیوں کا ایک الگ خیمہ بن گیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران سہواگ نے صحافیوں کے سیدھے سوالوں کے سیدھے جواب دیے اور اپنی ناراضگی چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

سہواگ سے جب دھونی کے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا کہ تینوں سینیئر کھلاڑیوں کا ایک ساتھ کھلانے کا مطلب یہ ہے کہ ٹیم کو جیتنے کےلیے ’بیس‘ اضافی رن کا بنانے پڑتے ہیں، تو سہواگ کا جواب تھا ’ آج آپ نے مڈ وکٹ پر میرا کیچ دیکھا تھا؟ ہم دس سال سے ایسا ہی کھیل رہے ہیں، کچھ نہیں بدلا ہے۔ آپ کو اس بارے میں دوبارہ دھونی سے پوچھنا چاہیے، جہاں تک ہمارا سوال ہے کہ دھونی نے ہم سے کہا تھا کہ وہ اگلے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے (جو آسٹریلیا میں ہی کھیلا جائے گا) نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہتے ہیں۔‘

جب سے روٹیشن پالیسی اختیار کی گئی ہے، کھلاڑیوں اور مبصرین سب کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے انتہائی مشکل دورے میں، جہاں بھارتی ٹیم کا اب تک کا مظاہرہ انتہائی مایوس کن رہا ہے، کپتان کو اپنی بہترین ٹیم میدان میں اتارنی چاہیے۔’آپ تندولکر جیسے بیٹسمین کو پویلین میں نہیں بٹھا سکتے۔‘

بھارتی ٹیم چاروں ٹیسٹ ہارنے کے بعد اب سہ ملکی سیریز میں بھی تیسرے نمبر پر پہنچ گئی ہے اور فائنل میں پہنچنے کے لیے اسے اپنے باقی دونوں میچ جیتنے ہوں گے۔

بہت سے مبصرین اور کپل دیو جیسے سابق کھلاڑیوں کا خیال ہے کہ صرف دس ماہ قبل عالمی کپ جیتے والی ٹیم کے اس نہج پر پہنچ جانے کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اس کا دھیان بٹا ہوا ہے اور سلیکشن کمیٹی کو آگے بڑھ کر کھلاڑیوں کو یہ واضح پیغام دینا چاہیے کہ صرف شہرت کے نام پر انہیں ٹیم میں شامل ہیں کیا جاسکتا، جیسا آسٹریلوی سلیکٹروں نے رکی پانٹنگ کے معاملے میں کیا ہے۔

اسی پس منظر میں کہا جارہا ہے کہ سچن تندولکر کو ایک روزہ میچوں سے ریٹائر ہوجانا چاہیے۔

پریس کانفرنس میں جب سہواگ سے پوچھا گیا کہ کیا ٹیم سلیکشن پر اختلافات دور کرنے کے لیے انہوں نے مہیندر سنگھ دھونی سےبات کی ہے، تو انہوں نے کہا کہ ’میں ان سےکیوں بات کروں، جب وہ کہتے ہیں کہ وہ کپتان ہیں اور لیڈر ہیں اور وہ اور کوچ یہ مانتے ہیں کہ سینیئر کھلاڑیوں کو بریک دیا جانا چاہیے تو مجھے اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘

اور یہ پوچھے جانے پر کہ کیا سینئر کھلاڑی ٹیم کے لیے بوجھ بن گئے ہیں، سہواگ نے کہا کہ ’اگلےمیچ سے پہلے دھونی آپ سے خطاب کریں گے، یہ سوال آپ ان ہی سے دوبارہ پوچھیے گا، جہاں تک میرا سوال ہے میں ہر میچ کے لیے دستیاب ہوں۔‘

اب سوال یہ بھی اٹھایا جارہا ہے کہ کیا جو کچھ دھونی نے کہا اور جو حکمت عملی انہوں نے اختیار کی ہے، وہ خود اپنی مرضی سے کر رہے ہیں یا اس میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے اہلکاروں اور سلیکشن کمیٹی کی بھی رضامندی شامل ہے۔

سابق بھارتی کرکٹر منیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ دھونی بورڈ کی رضامندی کے بغیر یہ سب نہیں کرسکتے تھے، ’لگتا ہے کہ بورڈ (انہیں استعمال کرتے ہوئے) ان کے کندھوں سے بندوق چلا رہا ہے۔‘

ابھی بورڈ کی جانب سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے لیکن کرکٹ کے مبصرین کا خیال ہے کہ اس دورے کے بعد بھارتی ٹیم میں کئی اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آسکتی ہیں اور یہ بات تقریباً طے مانی جارہی ہےکہ راہول ڈراوڈ اور وی وی ایس لکشمن آخری مرتبہ قومی ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

کہا جارہا ہےکہ سہواگ کے لیے بھی بھارتی ٹیم میں اب کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ اور سچن تندلکر؟ انہیں اب کپل دیو اور ایراپلی پرسنا کے بعد سابق کپتان سورو گانگولی نے بھی مشورہ دیا کہ وہ ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائر ہوجائیں۔

اسی بارے میں