محمد عامر سزا کے بعد وطن واپس پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

فاسٹ بولر محمد عامر سپاٹ فکسنگ کیس میں سزا مکمل کرنے کے بعد اتوار کو وطن واپس پہنچ گئے۔

محمد عامر کو سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر لندن کی عدالت نے چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی تاہم اچھے رویئے کے سبب انہیں گزشتہ ماہ تین ماہ کی سزا کے بعد ہی رہائی مل گئی۔ انہیں کم عمری کے سبب مرکزی جیل کے بجائے جنوب مغربی لندن میں اصلاحی مرکز میں رکھا گیا تھا۔

سپاٹ فکسنگ میں ملوث دیگر دو کرکٹرز سلمان بٹ اور محمد آصف اس وقت لندن کی جیل میں بالترتیب ڈھائی سال اور ایک سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

محمد عامر نے وطن واپسی پر ائرپورٹ اور اپنے گھر پر ذرائع ابلاغ کا سامنا نہیں کیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ جلد ہی محمد عامر سے ملاقات کرے گا تاکہ ان کی ذہنی تربیت اور بحالی کے پروگرام کا آغاز کیا جا سکے۔

سبحان احمد نے کہا کہ یہ بحالی پروگرام آئی سی سی کے قواعد وضوابط کی روشنی میں کیا جائے گا تاہم اس میں آئی سی سی یا اس کے اینٹی کرپشن یونٹ کے نمائندے کی موجودگی ضروری نہیں۔

انہوں نے کہا کہ محمد عامر سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی ملاقات اس لیے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے پس پردہ محرکات اور ان باتوں کو جاننے کی کوشش کی جائے گی جو ابھی تک انہوں نے نہیں بتائیں اور اگر کوئی اہم بات سامنے آتی ہے تو اس کی بنیاد پر تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔

سبحان احمد نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ محمد عامر کو آئی سی سی کی جانب سے پانچ سالہ پابندی کے خلاف اپیل میں کوئی قانونی مدد فراہم نہیں کرسکتا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ چاہتا ہے کہ ان کا ٹیلنٹ ضائع نہ ہو اور وہ پابندی ختم یا کم ہونے کی صورت میں دوبارہ پاکستان کیطرف سے کھیلنے کے قابل ہو سکیں۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کی سرکردہ شخصیات محمد عامر کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہوئے ان کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کی خواہش ظاہر کر چکی ہیں۔

سابق کپتان عمران خان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے پابندی مکمل ہونے کے بعد عامر کو انٹرنیشنل کرکٹ میں خوش آمدید کہنا چاہیے۔

سابق کوچ وقاریونس کا کہنا ہے کہ اگر محمد عامر انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آتے ہیں تو کسی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

انگلینڈ کے سابق کپتان مائیک بریرلی نے بھی کہا تھا کہ محمد عامر سے نرمی برتنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ بک میکرز مافیا اور کرپٹ کرکٹرز کے لیے اپنے نوجوان ساتھی کرکٹرز کو قابو کرنا اور انہیں دباؤ میں لینا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔

اسی بارے میں