متنازعہ ہاکی لیگ، پاکستانی کھلاڑی روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریحان بٹ کو امید ہے کہ بھارتی لیگ کھیلنے سے ان کا بین الاقوامی کریئر متاثر نہیں ہوگا۔

چھ پاکستانی ہاکی کھلاڑی متنازعہ ورلڈ ہاکی سیریز کھیلنے بھارت روانہ ہوگئے ہیں۔

یہ لیگ بدھ سے شروع ہورہی ہے تاہم ہاکی کی عالمی تنظیم ایف آئی ایچ نے اس لیگ کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بھی واضح کررکھا ہے کہ جو بھی کھلاڑی ورلڈ ہاکی سیریز میں حصہ لے گا اس پر پاکستان کی طرف سے کھیلنے کے دروازے بند کردیئے جائیں گے۔

بھارت جانے والے کھلاڑیوں میں ریحان بٹ اور شکیل عباسی بھی شامل ہیں جنہیں پاکستان ہاکی فیڈریشن نے لندن اولمپکس کے تربیتی کیمپ میں شامل کررکھا ہے یہ کیمپ بدھ سے شروع ہوا ہے تاہم ان کھلاڑیوں نے کیمپ کے بجائے متنازعہ لیگ کھیلنے کو ترجیح دی ہے۔

ریحان بٹ اور شکیل عباسی کے علاوہ بھارتی لیگ سے معاہدہ کرنے والے دیگر پاکستانی کھلاڑی ذیشان اشرف، وسیم احمد، طارق عزیز، مدثر علی خان اور عدنان مقصود شامل ہیں۔

ریحان بٹ نے بھارت روانگی سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ بھارتی لیگ کھیلنے سے ان کا بین الاقوامی کریئر متاثر نہیں ہوگا۔

انہوں نے دعوی کیا کہ ایف آئی ایچ کہہ چکی ہے کہ وہ اگرچہ اس لیگ کو تسلیم نہیں کرتی لیکن وہ کسی بھی کھلاڑی پر پابندی عائد نہیں کرے گی۔

ریحان بٹ نے یہ بھی دعوٰی کیا کہ ایف آئی ایچ نے کہا ہے کہ جس کھلاڑی نے مارچ دو ہزار گیارہ سے قبل ورلڈ سیریز کھیلنے کے معاہدے کئے ان پر انٹرنیشنل ہاکی کھیلنے پر پابندی عائد نہیں ہوگی اور یہ بات ان کے معاہدے میں موجود ہے تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو اپنی روانگی کے بارے میں بتایا تو ان کا جواب تھا کہ فی الحال فیڈریشن سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔

ریحان بٹ نے کہا کہ انہیں آٹھ ماہ تک پاکستانی ہاکی ٹیم سے باہر رکھا گیا لیکن اس دوران وہ اپنی ٹریننگ کرتے رہے اسوقت پاکستانی ٹیم کوئی انٹرنیشنل ایونٹ نہیں کھیل رہی ہے اور چونکہ انہوں نے بہت پہلے اس لیگ کا معاہدہ کیا تھا لہذا وہ معاہدے کی تکمیل کے لئے بھارت جارہے ہیں۔

ریحان بٹ نے اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پر کہا کہ اس کا انحصار پاکستان ہاکی فیڈریشن پر ہے کہ وہ انہیں ٹیم میں شامل کرتی ہے یا نہیں؟ لیکن وہ چاہیں گے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن اس معاملے کو سمجھ بوجھ کے ساتھ حل کرے کیونکہ جب بھارتی کھلاڑیوں پر پابندی عائد نہیں کی جارہی تو پھر پاکستانی کھلاڑیوں پر انٹرنیشنل ہاکی کے دروازے بند کرنے کا کیا سوال ؟

شکیل عباسی نے روانگی سے قبل کہا کہ ان کا پاکستان ہاکی فیڈریشن سے کوئی جھگڑا نہیں ہے اور اگر ان پر پابندی بھی عائد کی گئی تب بھی وہ فیڈریشن کے فیصلے کو چیلنج نہیں کریں گے۔

پاکستانی ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری آصف باجوہ نے بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اس کے بعد ہی ردِ عمل دیا جائے گا۔

اسی بارے میں