اولمپکس کا ٹکٹ ملا مگر نوکری نہیں

گیتا کماری
Image caption گیتا کماری نے حال ہی میں ایشائی چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ جیت کر لندن اولمپک میں جگہ بنائی ہے

لندن اولمپک میں پہلوانی میں بھارت کی نمائندگی کرنے والی گیتا کماری سے ہریانہ کی حکومت نے کامن ویلتھ گیمز میں طلائي تمغہ جیتنے کے بعد نوکری کا جو وعدہ کیا تھا وہ ابھی تک پورا نہیں ہو سکا ہے۔

ہریانہ حکومت نے دوہزار دس کے دولت مشترکہ کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتنے کے بعد گیتا کماری کو پولیس انسپکٹر کی نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا تاہم اس اعلان کے ڈیڑھ برس بعد بھی گیتا بے روزگار ہیں۔

حال ہی میں ہوئے ایشیائی چیمپئن شپ میں گیتا کماری نے طلائی تمغہ جیت کر لندن اولمپک میں جگہ بنائی ہے۔

گیتا اس بارے میں بی بی سی سے بات نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن جب بی بی سی کی ٹیم ان سے انٹریو کرنے ان کے گاؤں گئی توگیتا کے گھر پر بنے اکھاڑے میں موجود گاؤں کے لوگوں نے یہ معلومات دی۔

جب بی بی سی نے گیتا سے اس بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا ’کامن ویلتھ کھیلوں اور ایشیائی چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ جیتنے کے بعد بھی نوکری کا وعدہ پورا نہیں ہوا ہے‘۔

Image caption گیتا کے والد اپنے گھر میں بنا ہوا جم دکھاتے ہو‏ئے

گیتا نے مزید کہا کہ ’بہت دکھ ہوتا ہے اور یہ تکلیف اور بڑھ جاتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کم قابلیت والے لوگوں کو ہریانہ حکومت نے ڈی ایس پی کے عہدے سے نوازا ہے اور ہمارے لیے نوکری تک نہیں ہے‘۔

حالانکہ ان کا یہ بھی کہنا ہے ’ایک عہدہ یا نوکری حاصل کرنا میرا ہدف نہیں ہے۔ اولمپک میں طلائی تمغہ جیتنا میرا ہدف ہے۔ میرے والد کہتے ہیں کہ جب اچھا کھیلو گی تو نوکریاں آپ کے پیچھے آئیں گی ‘۔

واضح رہے کہ گیتا پہلوانی کی پریکٹس اپنے آنگن میں بنے اکھاڑے میں ہی کرتی ہیں اور اپنے خرچ سے ہی انہوں نے اپنے گھر میں جم بنایا ہو ہے۔

گیتا کی چار بہنیں ہیں اور ان کے والد چاروں کو پہلوان بنانا چاہتے ہیں۔ گیتا کی چھوٹی بہن ببیتا نے دولت مشترکہ کے کھیلوں میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔