بھارتی پہلوان کی نظریں سونے کے تمغے پر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دو سال قبل سولنکی، روس کے ایلن گورگیو کوشکست دے کر عالمی چیمپئن بن گئے تھے۔

ریسلنگ کے عالمی چیمپئن سشیل کمار سولنکی پرامید ہیں کہ وہ ایک ارب افراد کی حمایت کی مدد سے اولمپکس میں سونے کا تمغہ حاصل کرنے والے پہلے بھارتی ریسلر بن پائیں گے۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں بیجنگ اولمپکس کے دوران اٹھائیس سالہ سشیل، خسابا جادھو کے بعد کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والے دوسرے بھارتی ریسلر بن گئے تھے تاہم وہ اس سال لندن میں ہونے والی اولمپکس میں سونے کا تمغہ جیتنے کے بارے میں پرامید ہیں۔

سشیل کمار سولنکی کا کہنا ہے ’اگر میری ریسلنگ لوگوں کو خوش کرتی ہے تو یہ میری سب سے بڑی کامیابی ہے۔‘

انہوں نے کہا ’ہر مرتبہ جب میں ریسنلگ کے میٹ پر آتا ہوں مجھے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ارب افراد میرے لیے دعائیں کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے میں اپنی بہترین کارکردگی دے پاتا ہوں‘۔

واضح رہے کہ دو سال قبل سولنکی، روس کے ایلن گورگیو کو شکست دے کر فری سٹائل ریسلنگ کے عالمی چیمپئن بن گئے تھے اور اس کے ایک ہی ماہ بعد انہوں نے بھارت میں ہونے والی کامن ویلتھ گیمز میں بھی سونے کا تمغہ جیت لیا تھا۔

انہوں نے کہا ’لندن میں ہونے والے کھیلوں کو پورا بھارت دیکھ رہا ہوگا اور شائقین مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ان کی دعاؤں اور حمایت سے میں ان کے لیے باعثِ فخر بنوں گا‘۔

اسی بارے میں