آئی پی ایل کو مشکلات کا سامنا کیوں ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گانگولی کلکتہ کے لیے نہیں کھیلیں گے؟

کیا کرکٹ کے شائقین نے انڈین پریمیئر لیگ کے پانچویں ٹورنامنٹ سے منہ موڑ لیا ہے؟

اگر ٹی وی ریٹنگز کا جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ شائقین کی دلچسپی کم ہو گئی ہے۔ پہلے چھ میچوں میں جب روایتی طور پر لیگ میں دلچسپی عروج پر ہوتی ہے، ٹی وی ریٹنگز گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً اٹھارہ اعشاریہ سات فیصد کم ہیں۔

اس کہانی میں اور بھی مسائل ہیں۔ پانچویں سال کا آغاز ایک دکھاوے سے بھر پور اور غیر میعاری بالی وڈ طرز کے ناچ گانے سے کیا گیا جس سے شائقین کافی ناراض ہوئے۔ لیگ کے دو سب سے بڑے سپانسر پیچھے ہٹ گئے۔ برینڈ کنسلٹنٹس اور اطلاع عامہ کے ماہرین کی تنبیہ ہے کہ آئی پی ایل کا برینڈ مشکلات میں ہے اور لیگ کو بہتر لائحہِ عمل سامنے لانا ہوگا۔ ایک کمپنی نے تو لیگ کی قدر میں گیارہ فیصد کمی کر کے اس کی قدر تین اعشاریہ چھ سات ارب ڈالر کر دی ہے۔

یاد رہے کہ پچھلے سال بھی آئی پی ایل چار کا بھی کچھ خاص خیر مقدم نہیں ہوا تھا۔ ٹی وی ریٹنگز انتیس فیصد گرئیں تھیں اور فائنل بھی زیادہ نہیں دیکھا گیا تھا۔ کرکٹ شائقین بھارت کی ورلڈ کپ کی جیت کے نشے میں تھے جو کہ ٹورنامنٹ سے پہلے ہی ہوئی تھی اور شائقین کی کرکٹ کی بھوک کم ہی تھی۔

اس ٹورنامنٹ کی سنسنی کہاں گئی؟ ابھی تو ٹورنامنٹ کے ابتدائی دن ہیں۔ بحر حال اس ٹورنامنٹ میں سبھی کچھ تو ہے، اندھا دھند بلے بازی، میچوں کا آخری گیندوں تک فیصلہ نہ ہونا، بالی وڈ کا تماشہ، ’چیر لیڈرز‘، ’سٹریٹیجک ٹائم آوٹ‘ تاکہ اشتہارات کی جگہ بنائی جا سکے! بھارتیوں کو تو تماشہ پسند ہے اور اس وقت آئی پی ایل سے بہتر تماشہ کوئی نہیں ہے۔

اور پھر جب ناچ گانا گزر جاتا ہے تو بات تو کرکٹ کی آتی ہے۔ بھارت ابھی تک اپنے شرمناک انٹرنیشنل سیزن کے زخموں کی تاب نہیں لا سکا ہے۔ مسلسل آٹھ ٹیسٹ شکستوں کے ساتھ یہ ان کا ساٹھ کی دہائی سے اب تک کا سب سے برا سیزن تھا۔ اگرچہ سچن تندولکر کی سویں بین الاقوامی سینچری نے ایک اچھی خبر تو دی مگر بھارت ایشیا کپ بھی نہ جیت سکا۔ راہول ڈراوڈ نے پچھلے سال اس کو بہترین الفاظ میں محفوظ کیا تھا کہ مداحوں کی عزت کی جائے اور ان سے بری کاررکردگی والے میچوں میں داد کی امید رکھنا غلط ہے۔

لیگ کے سب اہم کھلاڑی بھارتی ستارے ہوتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر یا تو عام سی کارکردگی دیکھا سکے ہیں یا اس سال حصہ نہیں لے رہے۔ تندولکر زخمی ہیں، سہواگ اور دھونی ابھی چل نہیں پائے ہیں، لکشمن اس سال کھیل ہی نہیں رہے، یوراج سرطان کی جنگ لڑ رہے ہیں، گنگولی کی بلے بازی میں دم نظر نہیں آ رہا اور راہول ڈراوڈ اپنی ریٹائرمنٹ کے سائے میں ہیں۔

مداحوں کے بیچ یہ بھی الجھن ہے کہ کس ٹیم کی حمایت کریں اور کس کی نہیں۔ آئی پی ایل کی لیگ شہروں پر مبنی ہے مگر جب کلکتہ کا گانگولی، دلی کا گھمبیر اور بنگلور کا ڈراوڈ پونے، کلکتہ اور راجستان کی کپتانی کر رہے ہوں تو وفاداریوں میں ابہام آجاتا ہے۔

ممکن ہے کہ لیگ کے آخری میچوں کے دوران مداحوں کی دلچسپی بڑھنے لگے یا پھر چند بڑے سکور یا سنسنی خیز میچ حالات بدل دیں۔

بات یہ ہے کہ انتظامیہ آئی پی ایل کو ڈوبنے نہیں دے سکتی۔

کرکٹ کے بارے میں لکھنے والے بھارتی مصنف کا کہنا ہے ’آئی پی ایل اب کرکٹ کی معیشت کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ اگر اپنے گرد مداحوں کی سوچ کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے مشکلات میں ہے یا ڈوبتی ہے تو اس کا کرکٹ کی دنیا پر اثر بہت برا ہوگا۔ کرکٹ کی اس سلطنت کے بہت سے سپر سٹار ’کلب کلاس‘ سے ’کیٹل کلاس‘ میں آ جائیں گے جس میں سارے بّے نام شامل ہیں۔‘

اسی بارے میں