بنگلہ دیش کا دورہ مؤخر، ’فیصلے پر افسوس ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ڈھاکہ ہائی کورٹ نے بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کو سکیورٹی خدشات کی بنا پر کم از کم چار ہفتے کے لیے ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذ کا اشرف نے بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے دورے کے بارے میں بنگلہ دیشی ہائی کورٹ کے حکم امتناعی پر افسوس ظاہر کیا ہے۔

ڈھاکہ کی عدالت نے یہ حکم جمعرات کو سپریم کورٹ کے ایک وکیل اور ایک استاد کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سنایا۔

درخواست گزراوں کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ سکیورٹی خدشات کے باوجود کھلاڑیوں کو پاکستان بھیجنا چاہتا ہے۔

بنگلہ دیش کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل ایم کے رحمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے بنگلہ دیش کرکٹ کے حکام سے کہا ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ ٹیم کی سکیورٹی کے بارے میں خدشات سامنے آنے کے باوجود انہوں نے اس دورے کا فیصلہ کیوں کیا۔

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم نے ایک ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے کے لیے انتیس اپریل کو دو روزہ دورے پر پاکستان آنا تھا۔

پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے اس دورے کو اہم ترین قرار دیا جا رہا تھا۔پاکستان میں سنہ دو ہزار نو میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد سے بین الاقوامی کرکٹ میچ منعقد نہیں ہوئے اور پاکستان اپنی ہوم سیریز نیوٹرل میدانوں میں کھیلتا رہا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذ کا اشرف نے بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے دورے کے بارے میں بنگلہ دیشی ہائی کورٹ کے حکم امتناعی پر افسوس ظاہر کیا ہے۔

ذکا اشرف نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہیں اس فیصلے سے بہت تکلیف پہنچی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کو عدالت میں لے جانا افسوسناک ہے۔ وہ اس فیصلے پر تنقید نہیں کررہے ہیں لیکن انہیں اس پرحیرانی ہوئی ہے کیونکہ یہ دورہ ایسا نہیں تھا جس میں کوئی قانونی مسئلہ تھا۔

انہو ں نے کہا کہ بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کا دورہ آئی سی سی کے طے کردہ فیوچر ٹور پروگرام کا حصہ ہے اور کرکٹ بورڈز ان پر اتفاق کرچکے ہیں۔

ذکا اشرف نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس طرح کا کوئی حکم امتناعی سامنے آیا ہےکہ میچز نہ کھیلے جائیں۔

ذکا اشرف نے کہا کہ اگر اس طرح کرکٹ روکنے کی روایت پڑگئی تو پھر اس کے منفی اثرات مرتب ہونگے کیونکہ اس سے راستہ دکھایا جائے گا کہ اگر کوئی کرکٹ بورڈ کوئی فیصلہ کرتا ہے اور کسی کو وہ پسند نہیں تو وہ اٹھ کرعدالت میں چلا جائے۔

آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی نے بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے پاکستان نہ آنے کے بارے میں سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کو ٹھہرایا ہے۔

احسان مانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص نے عدالت سے رجوع کربھی لیا تھا تو بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کا یہ فرض بنتا تھا کہ وہ فوری طور پر اپیل کرتا اور سپریم کورٹ میں جاتا۔

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کو یہ سوچنا چاہیے کہ آج ایک دورے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا ہے کل کوئی بھی شخص ٹیم سلیکشن کے معاملے میں بھی اسے عدالت میں لے جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کا اختیار فیصلہ کرنے کا اختیار صرف بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کو ہے وہاں کوئی دوسرا ادارہ اس بارے میں فیصلہ کیسے کرسکتا ہے۔

احسان مانی نے کہا کہ جتنی تیزی سے جو کچھ بھی ہوا ہے وہ بظاہر ایک منصوبہ بندی کا نتیجہ دکھائی دے رہا ہے ۔

احسان مانی نے بنگلہ دیش کو یاد دلایا کہ یہ پاکستان ہی ہے جس کی وجہ سے وہ آئی سی سی کا ٹیسٹ رکن بنا اور یہ پاکستان ہی ہے جس نے اس تحریک کی زبردست مخالفت کی جو بنگلہ دیش اور زمبابوے کی ٹیسٹ رکنیت ختم کرنے کے لئےسامنے آئی تھی۔اسوقت وہ آئی سی سی کے صدر تھے اور انہوں نے بھی اس تحریک کی مخالفت کی تھی۔

اسی بارے میں