سچن کی نامزدگی، ’کانگریس کاگندہ کھیل‘

سچن تندولکر
Image caption راجیہ سبھا کے لیے نامزدگی کےبعد سے سچن پر بحث ان کی سیاسی کریئر پر ہونے لگی ہے

بھارتی ریاست مہاراشٹر کی علاقائی جماعت شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے کرکٹ کھلاڑی سچن تندولکر کو پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیے جانے کے بعد کانگریس پارٹی پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔

چند روز قبل صدر نےکرکٹر سچن تندولکر کو راجیہ سبھا کا رکن نامزد کرنے کی منظوری دی تھی۔

جس روز سچن تندولکر کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گيا تھا اس دن انہوں نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی سے ملاقات بھی کی تھی۔

رائے پور میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران ایک سوال کے جواب میں بال ٹھاکرے نے حکمراں جماعت کانگریس پارٹی پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ پارٹی کا سب سےگندہ کھیل ہے، حقیقی ڈرٹی پکچر یہی ہے۔‘

اس سے قبل شیو سینا کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ کے ایک اداریے میں بھی بال ٹھاکرے نے سچن تندولکر کے نامزدگی کے حوالے سے کانگریس پارٹی کو نشانہ بنایا تھا اور لکھا تھا کہ اس کے پیچھے کانگریس کی کوئی نا کوئی چال ہوگی۔

اخبار کے مطابق بال ٹھاکرے کا کہنا تھا ’سچن تندولکر کے کروڑوں مداح انہیں بھارت رتن سچن تندولکر کے نام سے پکارنا پسند کرتے لیکن افسوس کہ اب وہ صرف سچن تندولکر ایم پی (رکن پارلیمان) رہیں گے۔‘

بھارت رتن انڈیا کا سب سے بڑا اعزاز ہے اور بعض حلقے سچن کو یہ اعزاز دلانے کے لیے مہم چلاتے رہے ہیں۔

بال ٹھاکرے نے کہا کہ وہ سچن پر فخر کرتے ہیں لیکن راجیہ سبھا میں جانے سے پہلے رکن کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ آیا اس کے لیے وہاں کیا سکوپ ہے۔

ایک وقت تھا کہ سچں تندولکر اور ٹھاکرے فیملی کے درمیان گہرے تعلقات تھے لیکن پچھلے کچھ برسوں میں سچن شیو سینا کے بجائے کانگریس سے قریب ہوئے ہیں۔

ادھر کانگریس پارٹی نے بال ٹھاکرے کے بیانات کو مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی ترجمان سچن ساونت نے کہا کہ شیو سینا نے اس سے پہلے تاجر راج کمار دھوت کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا تھا تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے پیسوں کو لیے ایسا کیا تھا۔

انتالیس سالہ تندولکر کھیل کی دنیا کی پہلی شخصیت ہیں جو راجیہ سبھا کے رکن بنیں گے۔

بھارتی قانون کے مطابق پارلیمان کی چند نشستیں ملک کی ان سرکردہ شخصیات کے لیے مخصوص ہیں جنہوں نے ملک کی خدمت کے لیے کارہائے نمایاں انجام دیے ہوں۔

اس فہرست میں، ادیب، فنکار، سماجی کارکنان اور کھلاڑیوں جیسی شخصیات کے نام شامل ہوتے ہیں جنہیں صدر نامزد کرتا ہے۔ سچن کے علاوہ حکومت نے معروف اداکارہ ریکھا اور سماجی کارکن انو آگھا کی نامزدگی کی سفارشات بھی کی تھیں جو صدر نے منظور کر لیں۔

اسی بارے میں