سنوکر: سنٹرل کنٹریکٹ میں تبدیلی متوقع

Image caption کھلاڑیوں میں محنت کی کمی ہے انہیں بہت زیادہ محنت کرنی ہوگی: عالمگیر شیخ

ایشین سنوکر چیمپئن شپ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن نے اپنے سینٹرل کنٹریکٹ میں تبدیلی لانے کا عندیہ دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ دوہا قطر میں منعقدہ ایشین سنوکر چیمپئن شپ میں محمد آصف اور سلطان محمد نے پاکستان کی نمائندگی کی لیکن دونوں کھلاڑی گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکے۔

پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کے صدر عالمگیر شیخ نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی انتہائی خراب رہی دونوں بہت برا کھیلے اور ایک طویل عرصے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی کھلاڑی ایشین ایونٹ کے ناک آؤٹ مرحلے تک بھی نہ پہنچ سکے جو یقیناً ان کے لیے دھچکا ہے۔

عالمگیر شیخ نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو ایشین ایونٹ کی تیاری کے لیے اسلام آباد میں پریکٹس کے لیے تمام ضروری سہولتیں فراہم کی گئی تھیں اس کے باوجود یہ دونوں اچھے نتائج دینے میں ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں میں محنت کی کمی ہے انہیں بہت زیادہ محنت کرنی ہوگی۔ سنجیدہ ہوکر کھیلنا پڑے گا جو وہ نہیں کھیل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس خراب کارکردگی کے بعد آئندہ سال قومی سنوکر چیمپئن شپ کے فارمیٹ میں تبدیلی کے بارے میں سوچا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ اس وقت قومی چیمپئن شپ کے فاتح اور رنر اپ دونوں کھلاڑی ایشین چیمپئن شپ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ پاکستان کی قومی رینکنگ کی بنیاد پر نمبر ایک اور دو کھلاڑی ورلڈ چیمپئن شپ میں حصہ لیتے ہیں۔

عالمگیر شیخ نے کہا کہ پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن اس بارے میں بھی غور کررہی ہے کہ مستقبل میں آٹھ کے بجائے چار کھلاڑیوں کو ماہانہ رقم دی جائے۔

عالمگیر شیخ نے کہا کہ کھلاڑیوں کا یہ جواز قابل قبول نہیں کہ ان کے پاس ملازمتیں نہیں ہیں اور کوچ نہیں ہے۔ یہ مسائل پہلے بھی رہے ہیں لیکن اس کے باوجود کھلاڑی اچھی کارکردگی دکھاتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن مالی وسائل کی کمی کے باوجود کھلاڑیوں کو بیرون ملک کھیلنے کے لیے باقاعدہ بھیجتی ہے اور ملک میں بھی ٹورنامنٹس منعقد کراتی ہے۔

سکس ریڈ بال ایشین سنوکر چیمپئن شپ کی میزبانی کے بارے میں سوال پر عالمگیر شیخ نے کہا کہ یہ ایونٹ کراچی میں منعقد ہوگا جس کا اسپانسر بھی موجود ہے صرف یہی دعا ہے کہ اگلی فروری تک کراچی میں کوئی بڑی دہشت گردی نہ ہو تاکہ شریک ممالک آنے سے انکار نہ کردیں۔

اسی بارے میں