’سزا کے بعد بھی خود کو بے قصور کہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption محمد آصف سپاٹ فکسنگ کے مقدمے میں ایک سال قید کی سزا پوری کرنے کے بعد حال میں رہا ہوئے ہیں

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز کا کہنا ہے کہ انہیں سپاٹ فکسنگ کے مقدمے میں حال ہی میں رہا ہونے والے فاسٹ بالر محمد آصف کی اس بات پر یقین نہیں کہ وہ قصور وار نہیں۔

سرفراز نواز کے بقول ان تینوں کرکٹرز کے اس عمل سے تو ملک کی بے عزتی ہوئی ہے اور یہ جیل کاٹنے کے بعد بھی خود کو پاک قرار دے رہے ہیں۔

جمعرات کو کینٹ کاؤنٹی کی جیل سے ایک سال قید کی سزا کاٹ کر رہا ہونے والے محمد آصف نے ایک پاکستانی نجی ٹی وی کو دیے گئے رہائی کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ وہ اس وقت حیران رہ گئے تھے جب لندن کی عدالت نے انہیں مجرم قرار دیا تھا۔

محمد آصف کے قانونی مشیر اب اپیل دائر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں کہ یہ سزا غیر مناسب تھی جبکہ محمد آصف آئی سی سی کی جانب سے پانچ سال کی باپندی کے خلاف اپیل کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

پاکستان کے سابق فاسٹ بالر سرفراز نواز نے نامہ نگار مناء رانا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو بھی چاہیے کہ وہ سپاٹ فکسنگ میں ملوث ان کرکٹرز کے بارے میں خود بھی تحقیقات کریں اور پتہ چلائیں کہ انہوں نے اتنی دولت کیسے اکٹھی کی تو تمام تر حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی۔

سرفراز نواز نے کہا کہ تمام دنیا کے میڈیا پر یہ خبر نشر ہوئی کہ پاکستانی بالر محمد آصف رہا ہوگئے، کیا اس خبر سے پاکستان کی بے عزتی نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ان کرکٹرز کے سپاٹ فکسنگ کے معاملے کے بعد جو بھی خبریں آئیں ان سے ملک بھی بدنام ہوا اور اب محمد آصف کو یہ کہتے ہوئے کیا شرمندگی نہیں ہو رہی کہ وہ پاک صاف اور بے قصور ہیں۔

سرفراز نواز کے بقول اگر بدعنوانی کے معاملات میں ملوث ان کرکٹرز کو اپنے ملک میں ہی سخت سزا دی جاتی تو آج کرکٹرز میچ فکسنگ کے ذریعے دولت کماتے ہوئے ڈرتے۔

سرفراز نواز کے مطابق پاکستان کے بعض سابق کرکٹ بورڈز بھی میچ فکسنگ میں ملوث کئی کرکٹرز کو سزا کے باوجود صرف اس لیے کھلاتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ وہ نہیں ہوں گے تو ٹیم ہار جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ماضی میں کرکٹ بورڈ ان کے ساتھ سخت رویہ رکھتے تو اس ناسور پر قابو پایا جا سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب کچھ لوگوں کے دلوں میں سپاٹ فکسنگ میں ملوث محمد عامر اور محمد آصف کے لیے ہمدردی پیدا ہو رہی ہے لیکن یہ درست نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کچھ لوگوں کے دلوں میں سپاٹ فکسنگ میں ملوث محمد عامر اور محمد آصف کے لیے ہمدردی پیدا ہو رہی ہے لیکن یہ درست نہیں: سرفراز نواز

سرفراز نواز آج کل پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ پورے پاکستان سے فاسٹ بالنگ کے شعبے میں ٹیلنٹ اکٹھا کرنے یا بلاصلاحیت کھلاڑیوں کو سامنے لانے کے پروگرام میں کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے حال ہی میں انڈر 19 ٹیم کے لیے فاسٹ بالرز کے ٹرائلز دیکھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اس وقت جو ٹیلنٹ ہے اسے اطمینان بخش تو کہا جا سکتا ہے لیکن یہ ویسا ٹیلنٹ نہیں جو وسیم اکرم ،وقار یونس یا محمد عامر میں تھا جب وہ انڈر 19 میں تھے۔

سرفراز نواز کے بقول محمد عامر کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے سے پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک با صلاحیت کرکٹر سے محروم ہوئی لیکن وہ یہ سمجھتے ہیں آج کے دور میں ان نوجوان کھلاڑیوں کو ہر بات کا علم ہوتا ہے کہ کرکٹ میں بد عنوانی کتنی بری چیز ہے لیکن یہ لالچ میں آ کر اپنا اور ملک کا نقصان کر دیتے ہیں۔

اسی بارے میں