کپتانی کا میوزیکل چیئرگیم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی کرکٹ میں سلیکشن کی کرشمہ سازی نئی نہیں ہے

کپتانی کے میوزیکل چیئر گیم میں ایک اور کی کپتانی گئی ۔

اس بار مصباح الحق اس کی بھینٹ چڑھے ہیں جن سے نہ صرف ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی لی گئی ہے بلکہ انہیں یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ ان کے لیے اب ٹیسٹ اور ون ڈے رہ گئے ہیں وہ ٹی ٹوئنٹی کو قصہ پارینہ ہی سمجھیں۔

گوکہ مصباح الحق نے ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کھیلتے رہنے کا علم بلند کیا ہے لیکن سب ہی جانتے ہیں کہ اس طرز کرکٹ کی اڑان کے لیے ان کے پر ہی کاٹ دیےگئے ہیں۔

مصباح الحق کو ٹی ٹوئنٹی سے الگ کرنے کی وجہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے مستقبل کی پیش بندی بتائی ہے جس میں مصباح الحق فٹ نہیں بیٹھتے۔

مصباح الحق اور ان کے جانشین محمد حفیظ کو ایک ساتھ بٹھاکر پاکستان کرکٹ بورڈ نے جو ’محفل‘ سجائی اور جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف یہی تاثر دیتے رہے کہ جو کچھ ہوا ہے وہ جبراً نہیں ہے یہ بالکل ایسے معلوم ہورہا تھا جیسے کوئی سیاست داں اپنی جماعت چھوڑ کر نئی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر رہا ہو جس میں ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا ہوتا ہے لیکن پس پردہ کسی کی مجبوری اور کسی کا مفاد دونوں چھپے ہوتے ہیں ۔

ماضی میں ہم ڈاکٹر نسیم اشرف کو بھی اسی طرح ہنستے مسکراتے محمد یوسف اور انضمام الحق کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے دیکھ چکے ہیں۔

مصباح الحق کو بھی ملکی مفاد پر مبنی ایسے ہی فیصلے سے آگاہ کردیا گیا جو پہلے کیا جا چکا تھا۔ ظاہر ہے ان کے پاس دو ہی راستے تھے اپنی انٹرنیشنل کرکٹ جاری رکھنے کے لیے وہ کرکٹ بورڈ کے فیصلے پر سر تسلیم خم کرتے یا پھر بچ جانے والی ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ کو بھی قربان کر دیتے۔ انہوں نے پہلی راہ کا انتخاب کیا۔

مصباح الحق اڑتیس سال کے ہونے والے ہیں۔ ظاہر ہے ایک نہ ایک دن انہیں تیز رفتار طرز کی کرکٹ سے رخصت ہونا ہی تھا لیکن سوال یہ ہےکہ مصباح الحق اگر انگلینڈ کے خلاف ابوظہبی کے آخری ٹی ٹوئنٹی میں آخری گیند پر چھکا لگا کر پاکستان کو کامیابی دلادیتے تو آج نہ ان کی عمر آڑے آئی ہوتی نہ مستقبل کا سوچا جارہا ہوتا۔

محمد حفیظ اس لیے خوش قسمت ہیں کہ شاہد آفریدی اور شعیب ملک قیادت سنبھالنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی گڈبک میں نہیں ہیں ورنہ انہی دو میں سے کوئی ایک دوبارہ کپتان بن جاتا۔یہ دونوں کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی کی ٹیم میں شامل ہیں اور دیکھنا یہ ہوگا کہ محمد حفیظ کےساتھ ان کا تال میل کیسے رہتا ہے ۔

محمد حفیظ کی دیرینہ خواہش پوری تو ہوگئی ہے لیکن انہیں اپنی کارکردگی کو بھی بہتر کرنا ہوگا جو ٹی ٹوئنٹی کے حالیہ میچوں میں بہت اچھی نہیں رہی ہے۔

انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کی جس کارکردگی کی قیمت مصباح الحق کو چکانی پڑی اسی سیریز کے پہلے میچ میں وہ تیئس رنز بناسکے جس کے بعد اگلے دونوں میچوں میں وہ صفر پر آؤٹ ہوئے تھے۔اور ان تین میچوں میں وہ صرف تین وکٹیں حاصل کرسکے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا مستقبل کی پیش بندی کا دعوی ٹیم سلیکشن کے کچھ فیصلوں کو دیکھ کر غلط معلوم ہوتا ہے۔

محمد سمیع۔ فیصل اقبال اور یاسرعرفات کو منتخب کرکے سلیکشن کمیٹی کسی طور یہ نہیں کہہ سکتی کہ اس کی نظر مستقبل پر ہے۔

محمد سمیع پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے پانچ میچوں میں ایک سو چونتیس کی اوسط سے صرف ایک وکٹ حاصل کر سکے جبکہ یاسرعرفات نے تین میچ کھیلے اور تین ہی وکٹیں حاصل کیں۔

اگر بنگلہ دیشی لیگ میں محمد سمیع کی کارکردگی کو بنیاد بنایاگیا ہے تو اسی لیگ میں عمران نذیر کی کارکردگی اور پھر پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس میں ان کی شاندار کارکردگی انہیں خالد لطیف کے ساتھ ٹیم میں لا سکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اسی طرح نئے بولر راحت علی کو فرسٹ کلاس کرکٹ کی کارکردگی پر ون ڈے سکواڈ میں جگہ دی گئی ہے لیکن ان سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے تابش خان، بلاول بھٹی اور محمد خلیل منہ دیکھتے ہی رہ گئے۔

عثمان صلاح الدین کو اسٹینڈ بائیز میں شامل کردینا اس لیے حیران کن ہے کہ وہ اس سیزن میں سب سے زیادہ سات سنچریوں کی مدد سے چودہ سو ایک رنز بناکر آفاق رحیم کے چودہ سو بیس رنز کے بعد دوسرے نمبر پر رہے۔ اس لحاظ سے فیصل اقبال خوش قسمت ہیں کہ صرف ایک ہزار تیرہ رنز انہیں ٹیم میں لے آئے۔

پاکستانی کرکٹ میں سلیکشن کی کرشمہ سازی نئی نہیں ہے سب کو پتہ ہے کہ سلیکشن کمیٹی کو کرکٹ بورڈ کے اپنے گورننگ بورڈ کے ارکان کی خواہشات بھی دیکھنی پڑتی ہیں اور سیاسی حلقوں کے دباؤ بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں اور ایسے میں اگر کہیں میرٹ پر پنسد ناپسند غالب آجائے تو حیرت نہیں ہونی چاہئے۔

اسی بارے میں