سپاٹ فکسنگ کے الزامات، پانچ کھلاڑی معطل

تصویر کے کاپی رائٹ bcci
Image caption بھارتی چینل انڈیا ٹی وی نے ایک سٹنگ آپریشن میں یہ دعوی کیا تھا کہ یہ کھلاڑی پیسوں کے عوض سپاٹ فکسنگ کے لیے تیار تھے

بھارت میں کرکٹ کے نگراں ادارے بی سی سی آئی نے ابتدائی انکوائری مکمل ہونے تک سپاٹ فکسنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے پانچ کھلاڑیوں کو ہر قسم کی کرکٹ سے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انکوائری کی ذمہ داری آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سابق سربراہ روی سوانی کو سونپی گئی ہے جو پندرہ دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔ روی سوانی اب مشیر کی حیثیت سے بی سی سی آئی سے وابستہ ہیں۔

یہ پانچوں کھلاڑی انڈین پریمیئر لیگ کی مختلف ٹیموں سے وابستہ ہیں ان میں ابھیونو بالی اور ٹی پی سدھیندر( دکن چارجرز) مونیش مشرا (پونے وارئیر) اور امت یادو اور شلبھ شری واستو (کنگز الیون پنجاب) شامل ہیں۔

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق بھارتی چینل انڈیا ٹی وی نے ایک سٹنگ آپریشن میں یہ دعوی کیا تھا کہ یہ کھلاڑی پیسوں کے عوض سپاٹ فکسنگ کے لیے تیار تھے۔

بورڈ کی گورننگ کونسل نے چینل سے سٹنگ آپریشن کا پورا فوٹیج حاصل کرکے اس کا جائزہ لیا اور ویڈیو تصاویر کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ جب تک بی سی سی آئی کی انکوائری مکمل نہیں ہوجاتی، ان کھلاڑیوں کو کسی بھی قسم کی کرکٹ میں حصہ لینے کی اجازت نہ دی جائے۔

معطل کیے جانے والے کھلاڑیوں نے بھارتی ٹی وی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

دوسری جانب آئی پی ایل کے کمشنر اور بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے بورڈ کے فیصلے کی تصدیق کر دی ہے۔

بھارتی ٹی وی کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد منگل کو اس معاملے کی گونج پارلیمان میں بھی سنائی دی جہاں اراکین نے قصوروار پائے جانے والے کھلاڑیوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

بی سی سی آئی کے صدر این سری نواسن نےبھی کہا کہ ان الزامات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور قصوروار پائے جانے والے کھلاڑیوں کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی جائے۔

بھارت میں میچ فکسنگ کے الزامات نئے نہیں ہیں اور قومی ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہرالدین، آل راؤنڈر اجے جدیجہ اور منوج پربھاکر جیسے کئی سرکردہ کھلاڑیوں کو میچ فکسنگ کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔

سٹنگ آپریشن کے مطابق کچھ کھلاڑیوں نے یہ دعوی بھی کیا ہےکہ ان کی ٹیم کے فرینچائز کے مالکان انہیں چیک کے علاوہ بلیک میں بھی رقم ادا کرتے ہیں تاہم پونے واریئر نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔

آئی پی ایل میں بڑے پیمانے پر بےضابطگیوں کے الزامات کی وجہ سے آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی انگلینڈ میں ہیں اور بھارت واپس آنے سے انکار کر رہے ہیں جہاں تفتشیی ادارے ان سے پوچھ گچھ کرنا چاہتے ہیں۔

سٹنگ آپریشن میں آئی پی ایل کے میچوں کا بھی ذکر ہے اور ایک کھلاڑی کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ان کے خیال میں ایک میچ فکس تھا۔

بھارتی ٹی وی کے سربراہ رجت شرما کے مطابق ان کے صحافیوں کی ٹیم نے خود کو سپورٹس ایجنٹس کے طور پر پیش کرتے ہوئے ان کھلاڑیوں سے رابطہ کیا تھا اور انہیں دوسری ٹیموں کے ساتھ بہتر کانٹریکٹ دلوانے کی پیش کش کی تھی اور اسی بات چیت کے دوران سپاٹ فکسنگ کےبارے میں بھی بات کی گئی۔

آئی پی ایل کے قوانین کے تحت کھلاڑیوں کو براہ راست دوسری ٹیموں سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

رجت شرما کے مطابق بیس سے زیادہ کھلاڑیوں سے بات کی گئی لیکن صرف پانچ نے سپاٹ فکسنگ کے لیے آمادگی ظاہر کی جبکہ دس کھلاڑیوں سے بات چیت ویڈیو پر ہے۔

رجت شرما کا کہنا ہے کہ ’ اپنے صحافیوں سے بات چیت کرنے اور ویڈیو دیکھنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ بڑے کھلاڑی سپاٹ فکسنگ میں ملوث نہیں ہیں کیونکہ انہیں پہلے ہی بہت پیسہ ملتا ہے۔‘

رجت شرما نے کہا کہ کئی نوجوان کھلاڑیوں نے یہ کہتے ہوئے پیسہ کی بات کرنے سے صاف انکار کردیا کہ انہیں کرکٹ سے محبت ہے اور وہ پیسے کے لیے نہیں کھیلتے۔

اسی بارے میں