آئی پی ایل کے کھلاڑی کوکین پارٹی کے تنازعے میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت میں آئی پی ایل کے ایک آسٹریلیائی کھلاڑی کے مبینہ طور پر ایک امریکی خاتون کے ساتھ چھیڑخانی کے الزام کے بعد ایک دیگر معاملے میں بھی آئی پی ایل کے کھلاڑیوں کا نام آیا ہے ۔

ممبئی پولیس نے غیر قانونی منشیات کے استعمال کے شبہے میں ایک ہوٹل پارٹی پر چھاپہ مار جن لوگوں کو حراست میں لیا ہے ان میں آئی پی ایل کے دو کھلاڑی بھی شامل ہیں ۔

ممبمئی پولیس نے پونے واریرز ٹیم کے دو نوجوان کھلاڑیوں راہل شرما اور وین پیرنیل کے طبی نمونے لینے کے بعد حراست سے رہا کر دیا ہے ۔ان دونوں کھلاڑیوں کو ایک ریو پارٹی سے کل رات 94 دیگر لوگوں کے ساتھ غیر قانونی طور پر منشیات کے استعمال کے شبہے میں حراست میں لیا گیا تھا ۔ ان کے نمونوں کی جانچ کے بعد پولیس ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی۔

دونوں کھلاڑیوں نے کسی طرح کی منشیات کے استعمال سے انکار کیا ہے۔ راہل نے کہا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہوٹل گئے تھے اور انہیں کسی پارٹی کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

اعلی پولیس افسر وشواس ناگرے پاٹل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پارٹی کے مقام سے سو گرام سے زیادہ کوکین، چرس اور نشہ آور دوا ایٹیسی برآمد ہوئی ہے۔

آئی پی ایل کے کھلاڑیوں کا یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی پی ایل کی رائل چیلنجرز بینگلور ٹیم کے ایک آسٹریلیا ئی کھلاڑی لیوک پام باش پر ایک امریکی خاتون کے ساتھ چھیڑ خانی کا الزام لگا ہے اور وہ گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا ہیں ۔

ادھر گزشتہ ہفتے ایک اسٹنگ آپریشن میں آئی پی ایل میں کالے دھن کے استعمال کے الزام کے بعد اسپورٹس کے وزیر اجے ماکن نے کہا ہے کہ آئی پی ایل کے اخراجات اور ادائیگیون کی تفتیش رینیو محمکے کے ذریعے کی جانی چاہیئے ۔

مسٹر ماکن نے پارلمینٹ میں ایک بیان دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حکومت بھارتی کرکٹ بورڈ کو معلومات حاصل کرنے کے قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کر رہی ہے ۔