اولمپکس:سعودی خواتین کی شرکت پر سوالیہ نشان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دو ہزار بارہ کے اولمپکس جولائی اور اگست میں لندن میں منعقد ہونا ہیں

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگرچہ دو ہزار بارہ کے اولمپکس مقابلوں کے آغاز میں دو ماہ ہی باقی ہیں تاہم وہ ابھی تک سعودی عرب کی جانب سے اولمپکس میں خواتین ایتھلیٹس کو شرکت کی اجازت نہ دینے کے معاملے کا حل تلاش نہیں کر سکی ہے۔

سعودی عرب نے اولمپکس کے لیے اپنے قومی دستے میں خواتین کو شامل کرنے سے انکار کیا ہے اور سعودی دستہ لندن اولمپکس کا واحد دستہ ہوگا جس میں کوئی عورت نہیں ہوگی۔

سعودی عرب میں قدامت پسند مذہبی رہنما عورتوں کے کھیلوں کے عوامی مقابلوں میں شرکت کے مخالف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔

سعودی قومی اولمپکس کمیٹی کے صدر شہزادہ نواف نے گزشتہ ماہ ایک سعودی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ خواتین ایتھلیٹس کو بھیجنے کے حامی نہیں ہیں۔

ماضی میں سعودی عرب کے علاوہ قطر اور برونائی نے بھی کبھی اولمپکس دستے میں کسی خاتون کو شامل نہیں کیا تاہم اس مرتبہ یہ دونوں ممالک خواتین کو اولمپکس دستے میں شامل کر رہے ہیں۔

انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے صدر جیکس راگ کا کہنا ہے کہ وہ پرامید ہیں کہ سعودی خواتین بھی لندن اولمپکس مقابلوں میں حصہ لے پائیں گی۔

کینیڈا میں آئی او سی کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم ان سے بات چیت کر رہے ہیں اور ایتھلیٹ کوالیفائی کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر کھیلوں کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہوں گی‘۔

آئی او سی کے صدر کا کہنا تھا کہ ’یہ آسان چیز نہیں ہے۔ ہم پرعزم ہیں اور ان(سعودی حکام) کے ساتھ مل کر ایک اچھا حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں‘۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے اولمپکس مقابلوں میں خواتین کی شرکت پر پابندی اولمپک چارٹر کے خلاف ہے اور اس خلاف ورزی پر سعودی عرب کو کھیلوں سے خارج بھی کیا جا سکتا ہے۔

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیموں نے بھی اولمپکس کمیٹی پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ اگر سعودی عرب اپنے اولمپکس دستے میں خواتین کو شامل نہیں کرتا تو اس پر پابندی لگا دی جائے تاہم جیکس راگ نے کسی قسم کی پابندی پر بات کرنے سے انکار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ انتظار کریں اور دیکھیں۔ ہم ابھی کسی خیالی حالات کے بارے میں سوالات کا جواب نہیں دے سکتے‘۔

اسی بارے میں