اٹلی میں فٹبال مقابلوں کی معطلی کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لازیو کے کپتان سٹیفانو ماؤری بھی حراست میں لیے جانے والوں میں شامل ہیں

اطالوی وزیراعظم ماریو مونٹی نے ملکی فٹبال لیگ مقابلوں میں میچ فکسنگ کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد ملک میں پروفیشنل فٹبال مقابلوں کو دو سے تین سال تک معطل رکھنے کی تجویز دی ہے۔

ماریو مونٹی نے کہا ہے ان کی تجویز کو حکومت کی جانب سے دیے گئے مشورے کی بجائے ایک سوال سمجھا جائے۔

منگل کو اطالوی وزیراعظم نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’یہ خصوصاً افسوسناک ہے کہ ایک ایسی دنیا جسے اعلیٰ اقدار اور منصفانہ مقابلوں کا نمونہ ہونا چاہیے تھا، بدعنوانی اور جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوتی ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ سرکاری تجویز نہیں تاہم کیا یہ اچھا خیال نہیں کہ یہ کھیل دو یا تین برس کے لیے معطل کر دیا جائے‘۔

اطالوی پولیس نے میچ فکسنگ کے الزامات کی تحقیقات گزشتہ برس شروع کی تھیں اور اس آپریشن کے حالیہ حصے میں پیر کو اطالوی چیمپیئن شپ جیتنے والے کلب یووینٹس کے کوچ انٹونیو کونتے کو شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔

ان سے دو ہزار گیارہ میں ان کے سابق کلب سیانا اور نوارا کے مابین ہونے والے میچ کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ پیر کو ہی اطالوی پولیس نے چودہ افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں روم کے مشہور کلب لازیو کے کپتان سٹیفانو ماؤری بھی شامل ہیں۔

پولیس نے اطالوی قومی ٹیم کے تربیتی مرکز پر بھی چھاپہ مارا تھا اور یورو 2012 مقابلوں کے لیے اطالوی سکواڈ میں شامل ڈومینیکو کرس سیٹو کو شاملِ تفتیش کر لیا تھا۔

پولیس کی اس کارروائی کے بعد دفاعی کھلاڑی ڈومینیکو کو یورو کے اطالوی سکواڈ سے باہر کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں