’پاک بھارت کرکٹ سیریز پر فیصلہ جلد‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذ کاء اشرف کو یقین ہے کہ پاک بھارت کرکٹ بحالی کے سلسلے میں آئی سی سی کے کوالالمپور میں ہونے والے اجلاس میں اچھی خبر سننے کو ملے گی۔

ذکاء اشرف اس وقت بھارت میں ہیں جہاں انہیں آئی پی ایل فائنل کا دیکھنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

اس دورے میں انہوں نے بی سی سی آئی کے صدر سری نواسن سے بھی بات کی۔

ذ کاء اشرف نے دہلی سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہیں چیمپئنز لیگ میں پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی چیمپئن سیالکوٹ اسٹالیئنز کی شرکت کے بارے میں باضابطہ طور پر بتایا گیا۔

کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے بتایا کہ انہوں نے سری نواسن سے کہا کہ یقیناً یہ ایک اچھی خبر ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ پاک بھارت کرکٹ روابط اب بحال ہوں۔

ذکاء اشرف کے مطابق سری نواسن نے کہا کہ انہیں اس سلسلے میں کچھ وقت درکار ہے تاکہ وہ اس معاملے پر بھارتی کرکٹ بورڈ کے دیگر ارکان سے بھی بات کرسکیں اور جب وہ کوالالمپور میں آئی سی سی کے اجلاس میں آئیں تو کسی نتیجے پر پہنچتے ہوئے کوئی اعلان کریں گے۔

ذکاء اشرف سے جب پوچھا گیا کہ کیا دسمبر میں دونوں ٹیموں کے درمیان مختصر سیریز کا انعقاد ممکن ہے تو ان کا جواب تھا کہ سری نواسن نے انہیں کوئی تاریخ نہیں بتائی البتہ ان کا یہی کہنا تھا کہ انہیں وقت چاہیے تاکہ وہ اپنا ہوم ورک کرسکیں۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق کرکٹ بورڈ کے چیئر مین نے بتایا کہ ملاقات بہت مثبت تھی اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ بہت جلد دونوں ملکوں کے شائقین کو روایتی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔

آئی پی ایل میں پاکستانی کرکٹرز کی شرکت کے بارے میں سوال پر ذ کاء اشرف کا کہنا ہے کہ انہوں نے سری نواسن سے اپنی گفتگو میں صرف اور صرف اسی نکتے کو ذہن میں رکھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جتنا جلد ممکن ہو کرکٹ دوبارہ شروع کی جائے۔

جب دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ شروع ہو گی تو یقیناً پاکستانی کرکٹرز کو بھی آئی پی ایل میں بلانا شروع کر دیا جائے گا اور اسی طرح جب پاکستان میں پریمیئر لیگ ہوگی تو اس میں بھارتی کرکٹرز کی شرکت بھی ممکن ہو سکے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ صدر آصف زرداری کی جانب سے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو کرکٹ روابط کی بحالی کی درخواست کا بہت مثبت اثر ہوا ہے کیونکہ بھارتی وزیراعظم نے کہا تھا کہ دونوں کرکٹ بورڈز اس کی راہ نکالیں۔

یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری ٹیسٹ سیریز سنہ دو ہزار سات میں کھیلی گئی تھی جس کے بعد ممبئی کا واقعہ کرکٹ روابط میں رکاوٹ کا اہم سبب بن گیا اس دوران صرف ایک بار پاکستانی ٹیم نے سرحد پار کی اور موہالی جا کر کرکٹ ورلڈ کپ کا سیمی فائنل کھیلا۔

اسی بارے میں