اولمپکس میں پاکستانی شرکت خطرے میں؟

تصویر کے کاپی رائٹ

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے پاکستانی سپورٹس میں مبینہ حکومتی مداخلت کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور حکومت کے نمائندوں کو اپنے موقف پیش کرنے کے لیے چار جون کو سوئٹزرلینڈ میں اپنے ہیڈکوارٹر طلب کرلیا ہے۔

اگر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کو یقین ہوگیا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور کھیلوں کی قومی فیڈریشنز کے معاملات میں حکومتی مداخلت ہوئی ہے تو وہ انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کی اولمپک رکنیت معطل بھی کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی لندن اولمپکس میں شرکت بھی خطرے میں پڑسکتی ہے۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) عارف حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اولمپک رکنیت کی معطلی کے امکان کے بارے میں وہ کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے اس کا انحصار انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی پر ہے کہ وہ دونوں فریقین کا موقف سننے کے بعد کیا فیصلہ کرتی ہے۔

یقیناً وہ کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں نہیں کرتی وہ فریقین کی بات سنے گی اور چاہے گی کہ پاکستان میں کھیلوں کے معاملات آئی او سی کے چارٹر کے تحت رہیں اور اس کے لیے وہ ایک ڈیڈلائن ضرور دے گی۔

واضح رہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے پاکستان کو بھیجےگئے اپنے تیئس مئی کے خط میں توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستانی حکام ایسا خوشگوار ماحول پیدا کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے جس میں کھلاڑی لندن اولپکس کی تیاری کرکے اس میں شرکت کو یقینی بنا سکیں۔

لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن نے کہا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اب بھی چاہتی ہے کہ معاملات کو اصولوں میں رہتے ہوئے افہام و تفہیم سے چلایا جائے لیکن پاکستان سپورٹس بورڈ نے حالیہ دنوں میں ایسے اقدامات کئے ہیں جو اولمپک چارٹر کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اولمپک چارٹر قومی اولمپک ایسوسی ایشنز اور قومی فیڈریشنز میں کسی بھی قسم کی حکومتی مداخلت کے خلاف ہے لیکن پاکستان سپورٹس بورڈ نے اپنے طور پر قوانین میں ترمیم کرکے خود کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ کسی بھی کھیل کی قومی فیڈریشن کے آئین میں ترمیم کرسکتا ہے اور اس میں رد و بدل کرسکتا ہے۔

عارف حسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی بھی غلط تشریح کرکے غلط فہمی پیدا کی گئی ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے قومی فیڈریشنز کے دوبارہ انتخابات کی بات نہیں کی ہے۔

عارف حسن نے کہا کہ پاکستان سپورٹس بورڈ ملک میں کھیلوں کی ترقی کا ذمہ دار ہے لیکن یہ کھیلوں کی ترقی میں رکاوٹ رہا ہے۔ اس کے پاس نہ انفرا سٹرکچر کی ترقی ہے نہ کوچنگ اور ٹیلنٹ ہنٹ کی کوئی منصوبہ بندی ہے۔