یوسین بولٹ سو میٹر ریس کے فاتح

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’مجھے خود بھی اپنے آپ سے کافی امید ہوتی ہے‘۔ یوسین بولٹ

اٹلی کے شہر روم میں جاری ’روم ڈائمنڈ لیگ‘ کے مقابلوں میں جمیکا کے یوسین بولٹ نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سو میٹر کی دوڑ جیت لی ہے۔

انہوں نے سو میٹر کا فاصلہ نو اعشاریہ سات چھ سکینڈ میں طے کیا جو کہ اس سال کا تیز ترین وقت ہے۔

یوسین کی فارم پر شکوک کا اظہار کیا جا رہا تھا کیونکہ گزشتہ ہفتے انہوں نے چیک ریپبلک کے شہر استراوا میں سو میٹر کی دوڑ دس اعشاریہ سفر چار سیکنڈ میں مکمل تھی جو ان کے معیار سے کم وقت تھا۔

تاہم روم میں انہوں نے دوڑ کا آغاز ہی انتہائی بہترین کیا اور سب سے آگے رہے۔ دوسرے نمبر پر نو اعشاریہ نو ایک کے وقت کے ساتھ یوسین بولٹ کے ہم وطن اصافا پاول رہے۔

لانگ جمپ اور ہائی جمپ کے مقابلے برطانوی گریگ ردرفورڈ اور رابی گراباز نے جیتے۔

رابی گراباز کی کارکردگی خاص طور پر قابلِ ذکر رہی۔ انہوں نے دو اعشاریہ تین میٹر اونچی چھلانگ لگائی جو کہ ان کے لیے ذاتی طور پر بہترین ریکارڈ ہے اور عالمی طور پر اس سال کی سب سے اونچی چھلانگ ہے۔

ادھر گریگ ردرفورڈ نےاپنی اچھی فارم جاری رکھتے ہوئے آٹھ اعشاریہ تین دو میٹر لمبی چھلانگ لگائی۔

تاہم مقابلوں کے سٹار کھلاڑی یوسین بولٹ ہی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مقابلے سے پہلے کافی پریشان تھے اور اس معیار کی کارکردگی جس کے لیے وہ معروف ہیں، دکھا کر انہیں کافی اطمینان ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سے وہ یورپ آئے ہیں وہ ٹھیک سے سو نہیں پا رہے تھے، اسی لیے انہوں نے کہا کہ استراوا کی دوڑ کے بعد اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ جلدی سو جائیں اور کھانے کا بھی دھیان رکھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’لوگوں کو ہمیشہ ہی مجھ سے عمدہ کارکردگی کی امید ہوتی ہے مگر یہ میرے لیے دباؤ کا باعث نہیں کیونکہ مجھے خود بھی اپنے آپ سے کافی امید ہوتی ہے۔‘

اسی بارے میں