’شرم تم کو مگر آتی نہیں‘

لندن اولمپکس سے قبل آخری ٹورنامنٹ میں پاکستانی ہاکی ٹیم کی انتہائی مایوس کن کارکردگی نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ان دعووں کو غلط ثابت کر دیا ہے جو ٹیم کی اولمپکس کی تیاری صحیح سمت میں ہونے کے بارے میں کیے جاتے رہے ہیں۔

پاکستانی ٹیم نے ارجنٹائن کے خلاف اپنا پہلا میچ جیتا تو امید ہوچلی تھی کہ وہ اسی اعتماد کے بل پر بقیہ میچوں میں اچھی کارکردگی دکھائے گی لیکن اس کے بعد وہ جیت کو ترستی ہی رہی اور ٹورنامنٹ کا اختتام اس نے سات ٹیموں میں ساتویں نمبر پر کیا۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کی پے در پے ناکامیوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کرتا دھرتاؤں کو بھی جیسے حواس باختہ کر دیا ہے، ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ اس شرمناک کاررکردگی پر خوبصورت لفاظی کا لبادہ چڑھا کر کس طرح اسے دوسروں سے چھپائیں۔

اس ساری صورت حال میں ہاکی سے سیاست اور پھر سیاست سے ہاکی میں آنے والے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر قاسم ضیاء کا یہ بیان سامنے آیا کہ پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی کی ایک بڑی وجہ ٹورنامنٹ کی بلیو ٹرف تھی جس پر پاکستانی کھلاڑیوں کو کھیلنے کا کوئی تجربہ نہ تھا۔

لاس اینجلز اولمپکس کی فاتح ٹیم میں شامل ایاز محمود کا اس دلچسپ بیان پر تبصرہ بھی بہت ہی دلچسپ ہے۔

’اگر بلیو ٹرف شکست کی وجہ بنی تو پھر پاکستانی ٹیم نے اس نئی انجانی ٹرف پر ارجنٹائن کے خلاف پہلا میچ کیسے جیت لیا؟ کیا اس کے بعد بقیہ میچوں میں کھلاڑی ’ کلر بلائنڈ ہوگئے تھے؟ ‘

اگر قاسم ضیاء کی یہ بات مان لی جائے تب بھی اس کی قصوروار پاکستان ہاکی فیڈریشن ہے کھلاڑی نہیں، کیونکہ یہ بات تو بہت پہلے ہی سامنے آ چکی تھی کہ لندن اولمپکس کے ہاکی مقابلے بلیو ٹرف پر ہوں گے اور دوسرے ملکوں نے یا تو اپنے یہاں بلیو ٹرف وقت پر بچھالی یا پھر اپنی ٹیموں کو دوسرے ملکوں میں کھیلنے کا موقع فراہم کیا جبکہ نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں بلیو ٹرف کو بچھانے کا کام ٹیم کی ملائشیا روانگی تک شروع ہی نہ ہوسکا اور ٹیم کو پھٹی پرانی آسٹروٹرف پر ٹریننگ کرنی پڑی۔

اولمپکس سے چند دن پہلے اگر یورپ کے دورے میں چند میچز بلیو ٹرف پر کھلا کر فیڈریشن یہ سمجھتی ہے کہ اس نے حق ادا کر دیا تو مبصرین اسے محض دکھاوا ہی سمجھتے ہیں۔

سنہ انیس سو اٹھہتر کے عالمی کپ کے فاتح کھلاڑی شہناز شیخ کے خیال میں اس فیڈریشن نے قومی ہاکی کو جس مقام پر لا کھڑا کر دیا ہے وہاں سے اس کھیل کا دوبارہ بلندی پر آنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔

’اس فیڈریشن کے ہوتے ہوئے ٹیم بیجنگ اولمپکس میں اپنی تاریخ کی بدترین کاررکردگی دکھاکر آٹھویں نمبر پر آئی، عالمی کپ میں بارہ ٹیموں میں اس کا نمبر بارہ رہا۔ چیمپئنز ٹرافی میں وہ ساتویں نمبر پر آئی اور کامن ویلتھ گیمز میں اس کی پوزیشن چھٹی رہی۔ایک کے بعد ایک مایوس کن کاررکردگی کے بعد اس فیڈریشن کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی سکول ٹیچر کو یونیورسٹی دے دی گئی ہو، اس وقت ہاکی کے ساتھ بھی یہی حشر ہو رہا ہے کیونکہ کھلاڑیوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ وہ کس انداز کی ٹریننگ کریں، گراس روٹ لیول پر یہ اردو میڈیم ہے اور جب وہ انٹرنیشنل لیول پر جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا او لیول کی ہے۔

بارسلونا اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی ٹیم میں شامل قمر ابراہیم ناقص کاررکردگی کا ذمہ دار ٹیم منیجمنٹ کو قرار دیتے ہیں۔

’اس مینجمنٹ کے پاس کوئی وژن نہیں ہے کہ ٹیم کو اولمپکس جیسے اہم ترین مقابلے کے لیے کس طرح تیار کرنا ہے دراصل فیڈریشن کے کرتا دھرتا اپنا وقت گزار رہے ہیں اگر ان میں ذرا بھی شرم ہوتی تو وہ ٹیم کی ایک کے بعد ایک بدترین کارکردگی پر استعفی دے چکے ہوتے۔‘

سنہ انیس سو چورانے کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے گول کیپر منصوراحمد اولمپکس میں ٹیم سے کسی اچھی کاررکردگی کی توقع نہیں رکھے ہوئے ہیں۔

’اس وقت ہر ٹیم تیکنیکی طور پر پاکستانی ٹیم پر حاوی ہے اور وہ اس کی موجودہ کاررکردگی کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گی حالانکہ پاکستانی ٹیم اولمپکس کے جس پول میں ہے وہ دوسرے پول سے نسبتاً آسان ہے لیکن پاکستان کے لیے آسٹریلیا سپین اور برطانیہ کو زیر کرنا آسان نہیں اس کے علاوہ ارجنٹائن اور جنوبی افریقہ کو بھی کسی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔‘

اسی بارے میں