اسرائیلی جیل میں قید فلسطینی فٹبالر’قریب المرگ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حقوق انسانی کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جیل میں گزشتہ اسی روز سے بھوک ہڑتال پر ایک فلسطین فٹبالر قریب المرگ ہیں۔

محمود ال سارسک ایک وقت فلسطینی کی قومی فٹبال ٹیم کے سٹار کھلاڑی تھے اور سال دو ہزار میں غزہ کی پٹی سے ایک میچ کے لیے جاتے ہوئے انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔

انہیں اس وقت سے فرد جرم عائد کیے بغیر عدالتی کارروائی کے بغیر جیل میں قید کر رکھا ہے۔

پچیس سالہ محمود ال سارسک ان فلسطینی قیدیوں میں شامل ہیں جنہوں نے چودہ مئی کو بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسرائیلی قید خانوں میں فلسطینی قیدیوں نے نامناسب سہولیات کے خلاف اجتماعی طور پر بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی اور بعد میں اسرائیلی حکام سے ایک سمجھوتے کے تحت یہ ہڑتال ختم کر دی گئی۔

سمجھوتے کے تحت اسرائیلی حکام انیس قیدیوں کی دس سال سے جاری قید تنہائی ختم کرنے اور غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کے اہلخانہ کو ان کے پیاروں سے ملاقات کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

محمود سارسک نے رواں سال مارچ کے وسط سے ٹھوس غذا نہیں کھائی اور انہیں صرف جوس اور کچھ وٹامن دیے جا رہے ہیں۔

حقوق انسانی کی تنظیموں سے منسلک ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ محمود ال ساسک کی کسی بھی وقت موت واقع ہو سکتی ہے۔

فزیشن فار ہیومن رائٹس اسرائیل کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق’جیل خانوں کی سروس نے محمود ال سارسک کو بہتر علاج کے لیے عام ہسپتال میں منتقل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔‘

بیان کے مطابق’ بدھ تک محمود ال ساسک کی خراب صحت کے باوجود جیل سروس نے تنطیم کے ڈاکٹروں کو جیل میں ان کے طبی معائنے کی اجازت نہیں دی تھی۔‘

اسرائیل کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ہم نہیں چاہتے ہیں کہ قیدی اپنے صحت کو خطرے میں ڈالیں اور خاص اسی وجہ سے ہم نے قیدیوں کی اجتماعی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی کوشش کی اور اس میں قیدیوں، فلسطینی اتھارٹی اور دیگر تنظیموں کی شرائط کو مامنا گیا۔‘

اہلکار کے مطابق’ افسوس ہے کہ محمود ال سارسک نے سمجھوتے پر رضامندی کی بجائے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کا فیصلہ کیا اور ہم اسے ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ باقی قیدیوں کی طرح جلد ہی اپنی ہڑتال ختم کر دیں گے۔

خیال ہے کہ اِس وقت اسرائیل کی جیلوں میں پانچ ہزار سے زائد فلسطینی قید ہیں جن میں اکثر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق شدت پسند گروپوں سے ہے جبکہ سینکڑوں ایسے قیدی بھی ہیں جنہیں بغیر کسی مقدمے کے غیر معینہ مدت کے لیے قید میں رکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں