پاکستان ہاکی فیڈریشن کا یو ٹرن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سابق اولمپئنز نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اس فیصلے کو یوٹرن اور مجبوری کا سودا قرار دے دیا ہے

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بغیر اجازت غیر منظور شدہ بھارتی ہاکی لیگ میں حصہ لینے والے شکیل عباسی اور وسیم احمد کو یورپی دورے کے لیے پاکستانی ٹیم میں شامل کر لیا ہے۔

ریحان بٹ بھی قومی کیمپ میں بلا لیے گئے ہیں اور ان کھلاڑیوں پرعائد کردہ جرمانوں میں بھی کمی کردی گئی ہے۔

سابق اولمپئنز نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اس فیصلے کو ’مجبوری کا سودا‘ قرار دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بھارتی ہاکی لیگ میں حصہ لینے والے آٹھ کھلاڑیوں کے بارے میں انضباطی کمیٹی قائم کی تھی جس کی سفارشات کی روشنی میں شکیل عباسی اور ریحان بٹ پر دس دس لاکھ روپے جبکہ دیگر کھلاڑیوں پر ڈھائی ڈھائی لاکھ روپے جرمانے کیےگئے تھے۔

شکیل عباسی اور ریحان بٹ کی جانب سے جرمانے میں کمی کی اپیل پر اب ان پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ کر دیا گیا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ شکیل عباسی اور وسیم احمد نو جون کو یورپی دورے پر روانہ ہونے والی قومی ہاکی ٹیم میں شامل کر لیےگئے ہیں جبکہ ریحان بٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ بیک اپ کیمپ میں شامل ہوں جو گیارہ جون سے لاہور میں شروع ہوگا۔

سابق اولمپئن ایاز محمود نے نامہ نگار عبدالرشید شکور سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن اس وقت سب کے ساتھ ڈرامہ کر رہی ہے۔

فیڈریشن نے جن کھلاڑیوں کو متنازعہ ہاکی لیگ کھیلنے پر ٹیم سے باہر کردیا تھا انہیں دوبارہ شامل کرنا اس کی مجبوری ہے کیونکہ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں جن کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا وہ بری طرح ناکام رہے لہذا فیڈریشن کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔

سابق اولمپئن قمرابراہیم کا کہنا ہے کہ بھارتی ہاکی لیگ کھیلنے والے کھلاڑی خود یہ کہتے پائے گئے کہ فیڈریشن انہیں ضرور ٹیم میں شامل کر لے گی اور وہ جرمانہ بھی ادا نہیں کریں گے لہذا اس فیصلے پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

اسی بارے میں