ہالینڈ کی ٹیم کو نسل پرستی کی شکایت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہالینڈ کی ٹیم کے دعوے کی تاحال نہ تو یوئیفا اور نہ ان کی اپنی فٹبال ایسوسی ایشن نے تصدیق کی ہے

یورو 2012 فٹبال مقابلوں میں شرکت کے لیے پولینڈ میں موجود ہالینڈ کی ٹیم کے سیاہ فام ارکان پر مبینہ طور پر نسل پرستانہ فقرے کسے گئے ہیں۔

یہ واقعہ پولینڈ کے شہر کارکو میں ٹیم کے تربیتی سیشن کے دوران پیش آیا اور ہالینڈ کی ٹیم کپتان مارک وین بومل نے کہا ہے کہ یہ ’حقیقت میں بےعزتی تھی‘۔

یورپی فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس قسم کا ایک واقعہ پیش آیا ہے لیکن وہ کارکو میں یورو 2012 کا کوئی میچ منعقد نہ کروانے کے خلاف مظاہرے کا حصہ تھا۔

تاہم مارل بومل نے کہا ہے کہ ’اگر آپ کے کان میں ایسے الفاظ پڑتے ہیں اور آپ انہیں سننا نہیں چاہتے تو یہ زیادہ برا محسوس ہوتا ہے‘۔

بی بی سی سپورٹس نیوز کے نامہ نگار ڈین روان کا کہنا ہے کہ بدھ کو منعقد ہونے والے اس تربیتی سیشن کو دیکھنے کے لیے بیس ہزار افراد جمع تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہالینڈ کی ٹیم کے دعوے کی تاحال نہ تو یوئیفا اور نہ ان کی اپنی فٹبال ایسوسی ایشن نے تصدیق کی ہے۔

یہ واقعہ ہالینڈ کی ٹیم کے آشوٹز میں واقع نازی کیمپ کا دورہ کرنے کے اگلے ہی دن پیش آیا ہے۔ مارک بومل نے کہا ’یہ بہت بےعزتی کی بات ہے خصوصاً جب آپ آشوٹز سے واپس آئے ہوں اور آپ کے ساتھ ایسا سلوک ہو‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم اس معاملے کو یوئیفا میں اٹھائیں گے اور اگر کسی میچ میں ایسا ہوا تو ہم ریفری سے بات کریں گے کہ وہ ہمیں میدان سے باہر لے جائے‘۔

کارکو میں موجود برطانوی اخبار ڈیلی مررر کے نمائندے مارٹن لپٹن نے بی بی سی ریڈیو فائیو کو بتایا کہ ’جب ہالینڈ کے کھلاڑی میدان پر دوڑ رہے تھے تو پانچ سو کے قریب مقامی شائقین نے سیاہ فام کھلاڑیوں پر فقرے کسے۔ دوسرے چکر میں یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا جس کے بعد کپتان اپنی ٹیم کو میدان کے دوسرے حصے کی جانب لے گیا‘۔

خیال رہے کہ ہفتۂ رواں کے آغاز میں یوئیفا کے صدر مشیل پلاٹینی نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا تھا کہ ریفریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران اگر کسی کھلاڑی پر نسل پرستانہ فقرہ کسا جائے تو وہ میچ روک دیں۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسے واقعے کی صورت میں اگر کوئی کھلاڑی خود ہی احتجاجاً میدان چھوڑ کر باہر گیا تو اسے زرد کارڈ دکھایا جائے گا۔

یورو 2012 ٹورنامنٹ جمعہ سے شروع ہو رہا ہے اور پولینڈ اور یوکرین مشترکہ طور پر اس کی میزبانی کر رہے ہیں۔ حال ہی میں بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم میں اس ٹورنامنٹ کے نسل پرستی کے واقعات سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

انہی خدشات کے پیشِ نظر انگلش سکواڈ کے سیام فام کھلاڑیوں تھیو والکاٹ اور ایلکس چیمبرلین کے اہلِ خانہ نے ٹورنامنٹ دیکھنے کے لیے پولینڈ جانے سے انکار کر دیا ہے۔

برطانوی وزراء کا بائیکاٹ

ادھر برطانوی حکومت کے وزراء نے یوکرین میں انگلش ٹیم کے گروپ میچوں کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ قدم یوکرین میں مقید اپوزیشن رہنما یولیا ٹیموشینکو سے روا رکھنے جانے والے سلوک کے خلاف احتجاجاً اٹھایا گیا ہے۔

برطانیہ کے علاوہ جرمنی، ہالینڈ اور آسٹریا نے بھی ٹورنامنٹ کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔

برطانیہ میں یوکرین کے سفیر کا کہنا ہے کہ ’سیاست اور کھیل کو ملانا نہیں چاہیے اور خدشات ظاہر کرنے کے اور بھی طریقے ہیں‘۔

یولیا ٹیموشنکو نے دو ہزار چار کے ’نارنجی انقلاب‘ میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور ان کا کہنا ہے کہ مبینہ کرپشن کے لیے ان کی قید یوکرائن کے صدر وکٹر یانوکووچ کی جانب سے سیاسی انتقام کا حصہ ہے۔

اسی بارے میں