اولمپکس:’ٹکٹوں کی غیرقانونی فروخت کی تفتیش‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لندن اولمپکس کے منتظمین کا کہنا تھا کہ بیس لاکھ افراد نے دو ہزار بارہ میں ہونے والے مقابلوں کے ٹکٹوں کے حصول کے لیے دلچسپی ظاہر کی تھی۔

بین الاقوامی اولمپکس کمیٹی نے ان الزامات کی تفتیش شروع کر دی ہے جن کے مطابق اولمپک گیمز کے اہلکاروں اور ایجنٹس نے لندن دو ہزار بارہ اولمپکس کے ٹکٹوں کی فروخت میں قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے اخبار سنڈے ٹائمز کے اس معاملے پر انکشافات کے بعد سربراہی بورڈ کا ایک ہنگامی اجلاس بلایا، جس کے بعد اس معاملے کی تحقیقات آزادانہ ضابطۂ اخلاق کے کمیشن کو سونپ دی گئی ہے۔

ممکن ہے کہ کمیٹی ممبران ممالک کے مابین ٹکٹوں کی تقسیم کے طریقہ کار پر بھی نظرثانی کریں۔

بی بی سی کے نامہ نگار جیمز پیئرس کا کہنا ہے کہ سنڈے ٹائمز نے چند دستاویزات جمع کروائی ہیں جن میں اس بات کے شواہد ہیں کہ اولمپکس اہلکار اور ایجنٹس ہزاروں ٹکٹیں کئی گنا زائد قیمت پر بلیک مارکیٹ میں فروخت کر رہے ہیں۔

اخبار نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ ان کی دو ماہ پر محیط تفتیش میں 54 مختلف ممالک کے نمائندوں کے بدعنوانی کے معاملات سامنے آئے۔

ان کھیلوں میں شرکت کرنے والے تمام ممالک میں تقریباً دس لاکھ ٹکٹیں تقسیم کی گئیں تھیں تاہم عالمی اولمپکس کمیٹی کے ان ٹکٹوں کی غیر قانونی فروخت کے بارے میں سخت قوانین ہیں۔

قومی اولمپکس کمیٹیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے حصے میں آنے والی ٹکٹیں صرف ان کے اپنے ہی ملک میں فروخت کی جائیں۔

سنڈے ٹائمز کے خفیہ رپوٹرز نے غیر قانونی ایجنٹ بن کر ٹکٹیں خریدنے کی کوشش کی تو انہیں مختلف ممالک کی کمیٹیوں کے اہلکاروں کی طرف سے پیشکش کی گئی۔

گزشتہ ماہ یوکرین کی قومی اولمپک کمیٹی کے ایک اعلٰی سطحی اہلکار کو بی بی سی کی جانب سے ایک ملتی جلتی تفتیش میں ٹکٹوں کی پیشکش کرنے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفیٰ پڑا تھا۔

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ان الزامات کا انتہائی سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور فوری طور پر تفتیش کے ابتدائی اقدامات کیے جا چکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر بدعنوانی کے واقعات کا ثبوت سامنے آیا تو تنظیم ذمہ داران کو سخت ترین سزا دے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ البتہ قومی اولمپک کمیٹیاں خود مختار تنظیمیں ہوتی ہیں تاہم ان الزامات کے ثابت ہونے پر عالمی اولپمک کمیٹی شدید ترین پابندیاں لگانے سے گریز نہیں کرئے گی۔

اسی بارے میں