سکیورٹی خدشات، بین الصوبائی کھیل ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں امن وامان کی مخدوش صورتحال کے باعث اگلے ماہ ہونے والے بین الصوبائی کھیلوں کے مقابلے ملتوی کردیے ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچستان اولمپک ایسوسی کے جنرل سیکرٹری افضل اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ بین الصو بائی گیمز اگلے ماہ کی چودہ سے سولہ جولائی کوئٹہ میں منعقد ہونے تھے جس میں چاروں صوبوں کے علاوہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے کھلاڑیوں نے بھی شرکت کرنا تھا۔ لیکن کوئٹہ میں امن وامان خراب صورتحال بین الاصوبائی گیمز کو ملتوی کردیاگیا۔

نئی تاریخوں کا اعلان عید کے بعد کیا جائےگا۔ افضل اعوان کے بقول موجودہ صورتحال میں پنجاب اور ملک کے دیگر صوبوں سے بین الصوبائی گیمز میں شرکت کے لیے کھلاڑی کوئٹہ آنے کے لیے تیار نہیں ہے جس کے باعث مجبوراً بین الصوبائی گیمز کو ملتوی کرنا پڑا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان کے کھلاڑیوں نے بھی بین الصوبائی گیمز ملتوی ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کوئٹہ میں آنے والے کھلاڑیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کرے۔

اس سلسلے میں حکومت کا موقف جاننے کے لیے صوبائی وزیر کھیل شاہنواز مری سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

خیال رہے کہ وزیراعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی سیکورٹی اہلکاروں کو بتائے بغیر جمعہ کے روز کوئٹہ میں اپنے گھر ساروان ہاؤس سے مسجدامام سے لفٹ لے کر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ تک موٹرسائیکل پر آئے تھے اور یہ تاثر دیا تھا کہ ’ کوئٹہ میں امن ہے اور میں خود بھی موٹرسائیکل پر بلا خوف وخطر گھوم سکتا ہوں۔‘

وزیراعلی بلوچستان ایک ایسے وقت میں مسجدامام کے ساتھ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی جب صوبائی وزارت داخلہ کی جانب امن وامان کی خراب صورتحال کے باعث کوئٹہ شہر میں دوماہ کے لیے موٹرسائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کی ہے۔

تاہم اس پابندی سے بچوں خواتین اور ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو مستثنیٰ قرار دیاگیا ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ کے شہریوں نے وزیراعلیٰ کی جانب سے پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر سخت احتجاج کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پابندی کی خلاف ورز ی کرنے پر وزیرا علیٰ کے خلاف کاروائی کی جائے یا پھر نیا نوٹیفکیشن جاری کرکے وزیراعلی کو بھی ڈبل سواری کی پابندی سے مستثنیٰ قراد دیا جائے۔

یادرہے کہ صوبائی وزارت داخلہ نے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی سپریم کورٹ کی جانب سے ان احکامات کے بعد عائد کی ہے جس میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے صوبائی حکومت کو حکم دیا تھا کہ کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات روکنے کے لیے موثراقدامات کیے جائیں۔

لیکن سنیچر کو بھی کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ٹارگٹ کلنگ کے واقعہ کے بعد دو نامعلوم مسلح افراد موٹرسائیکل پر ہی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس میں آٹھ افراد ہلا ک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں