پاک بھارت کرکٹ کی بحالی کی کوششیں

بھارت اور پاکستان کے کرکٹ شائقین تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے روابط کی بحالی میں سیکورٹی کے مسائل کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا

پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے بھارت کے ساتھ کرکٹ کے رشتے بحال کرنے کے لیے کئی تجاویز پیش کی ہیں۔

دلی میں اپنے بھارتی ہم منصب سے مذاکرات کے بعد پاکستان کے خارجہ سیکریٹری جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ ’یہ معاملہ زیر غور آیا تھا اور ہم نے کرکٹ کے رشتے بحال کرنے کے لیے بھارت کو کئی تجاویز دی ہیں۔

دونوں خارجہ سیکریٹریوں سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا تقریباً ایک سال سے جاری باہمی مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اتنا اعتماد ہو پایا ہےکہ وہ آپس میں کرکٹ کھیل سکیں؟

بھارت خارجہ سیکریٹری رنجن متھائی نے کہا کہ باہمی تعلقات کو بہتر بنانے میں بہت پیش رفت ہوئی۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے رشتوں کے سلسلے میں حتمی فیصلہ دونوں ملکوں میں کرکٹ کے نگراں ادارے ہی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’ کرکٹ کے روابط کی بحالی میں سکیورٹی کے مسائل کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا لیکن اگر آپ مشترکہ بیان دیکھیں گے تو ہم نے کھیلوں کے شعبے میں روابط کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت اور پاکستان کے درمیان خارجہ سیکریٹری سطح کی مذاکرات دلی میں ہوئی ہے

بی سی سی آئی کے جنرل سیکریٹری اور وفاقی وزیر راجیو شکلا بھی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ کرکٹ کے رشتوں کی بحالی میں حکومت کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے لیکن کوئی بھی حتمی فیصلہ بھارتی ٹیم کے شیڈول اور سکیورٹی سے لاحق خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کیا جائے گا۔

ممبئی پر دو ہزار آٹھ کے حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی کرکٹ سیریز کا سلسلہ بند ہے لیکن انہوں نے بین الاقوامی مقابلوں میں ضرور ایک دوسرے کے خلاف میچ کھیلے ہیں۔ گزشتہ برس عالمی کپ کے سیمی فائنل میں بھارت اور پاکستان کے درمیان موہالی میں مقابلہ ہوا تھا۔ یہ میچ دیکھنے پاکستان کے اسوقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی گئے تھے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بھی کئی مرتبہ باہمی کرکٹ بحال کرنے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔

بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے کچھ عرصے قبل پاکستان کی کلب ٹیم سیالکوٹ سٹالینز کو ٹی ٹونٹی چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کے لیے مدعو کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جسے اس بات کا پیش خیمہ مانا جا رہا تھا کہ قومی ٹیموں کے درمیان بھی جلدی ہی ایک روزہ یا ٹیسٹ سیریز کی بحالی کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

لاہور میں تین مارچ دو ہزار نو کو سری لنکا کی ٹیم پر فائرنگ کے بعد سے آئی سی سی نے وہاں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے ابھی تک ہری جھنڈی نہیں دکھائی ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ تجویز بھی رکھی جا چکی ہے کہ دونوں ٹیمیں کسی تیسرے ملک میں کھیل سکتی ہیں۔ بھارت نے آخری مرتبہ سن دو ہزار پانچ میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

اسی بارے میں