پاکستان سپورٹس بورڈ کا اجلاس بے نتیجہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کی انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی رکنیت سے معطلی اور پاکستانی دستے کی لندن اولمپکس میں شرکت کی بابت غیر یقینی کیفیت کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔

اسلام آباد میں پاکستان سپورٹس بورڈ اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور دیگر کھیلوں کی تنظیموں کے درمیان جمعرات کو ہونے والے اجلاس کے بعد بھی تنازع کا مکمل حل نہیں نکالا جا سکا۔

اس اجلاس میں پاکستان سپورٹس بورڈ نے یہ بات تو تسلیم کر لی ہے کہ پاکستان اولپمک ایسوسی ایشن اس کے ماتحت نہیں ہے لیکن اس اجلاس میں کھیلوں کی قومی فیڈریشنز کو کہا گیا کہ وہ دو ماہ میں سپورٹس پالیسی پر عمل کر لیں۔

اس پالیسی کے تحت جن فیڈریشنز کے عہدیدار دو مدت پوری کر کے تیسری بار ایک ہی عہدے پر موجود ہیں وہ فیڈریشز اپنے انتخابات کروائیں جبکہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کھیلوں کی قومی تنظیموں کو اپنے اپنےآئین کے مطابق اقدامات کا حق ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار مناء رانا سے بات کرتے ہوئے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرڈ عارف حسن نے کہا کہ تنازع کا مکمل حل نہیں نکالا جا سکا اور اب یہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی صوابدید ہے کہ وہ اس اجلاس کے بعد کیا فیصلہ کرتی ہے لہذا یہ کہنا کہ پاکستان کے دستے کی لندن اولمپکس میں شرکت یقینی ہو چکی ہے، کہنا قبل از وقت ہو گا۔

پاکستان سپورٹس بورڈ کے ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کے وزیر اور پاکستان سپورٹس بورڈ کے صدر میر ہزار خان بجارانی نے کہا کہ سپورٹس فیڈریشنز کے ایسے تمام عہدیدار جو دو مرتبہ عہدوں کی مدت پوری کر چکے ہیں دو ماہ کے اندر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل در آمد کا راستہ نکالیں اگر ایسا نہ ہوا تو یہ آفیشلز توہین عدالت کے مرتکب ہوں گے۔

میر ہزار خان بجارانی کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی ادارہ جس کا سپورٹس بورڈ سے الحاق نہیں اس کے لیےسپورٹس پالیسی پر عمل در آمد کرنا ضروری نہیں تاہم بجرانی نے پی او اے کے صدر سید عارف حسن کو کہا ہے کہ وہ قانونی مشاورت کے ساتھ حکومت کو اس حوالے سے مطمئن کریں۔

اسی بارے میں