لندن اولمپکس 2012: ایتھلیٹس کی آمد کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بی اے اے کے اولمپکس اور پیرالمپکس منصوبہ بندی کے سربراہ نک کول کے مطابق ‘آج سے برطانیہ کے زمانہ امن کے سب سے بڑے مواصلاتی چیلنج اور ہیتھرو کے مصروف ترین دن کا آغاز ہوتا ہے۔’

ہزاروں کھلاڑی اور ان کے منتظمین پیر سے لندن اولمپکس میں شرکت کے لیے لندن پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف لندن 2012 میں صرف گیارہ دن رہ گئے ہیں اور کھیلوں کی افتتاحی تقریب کے لیے تیاریاں بھی عروج پر ہیں۔

منگل کے روز لندن کا مرکزی ائرپورٹ ہیتھرو دو لاکھ چھتیس ہزار نو سو پچپن سے زائد مسافروں کی آمد کی توقع کر رہا ہے جو کہ پچھلے سال اکتیس جولائی کے ریکارڈ دو لاکھ تینتیس ہزار پانچ سو باسٹھ سے زیادہ ہے۔

جبکہ ایک سو پچاس ممالک سے کُل ایک ہزار ستائیس ’گیمز فیملیز‘ جن میں کھلاڑی اور ان کے کوچ شامل ہیں اولمپکس میں شرکت کے لیے لندن آئیں گے۔ ہیتھرو کا انتظام چلانے والی کمپنی بی اے اے کو توقع ہے کہ چوبیس جولائی کھلاڑیوں کی آمد کے حساب سے مصروف ترین دن ہو گا۔

لندن کی ایم فور موٹر وے جو کہ کھیلوں کے لیے ہیتھرو سے بنیادی راستے کا کام دے گی اس پر ’گیمز لین‘ یعنی کھیلوں کے لیے مختص خصوصی راستے کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

لندن کے مئیر بورس جانسن نے کہا کہ ’لندن تیار ہے اتنا تیار کہ کوئی بھی اولمپک شہر اس مرحلے پر اتنا تیار نہیں تھا جتنا آج لندن تیار ہے‘۔

رضاکار آنے والے کھلاڑیوں اور ان کے کوچز کی رہنمائی ان ٹرینوں اور بسوں کی طرف کریں گے جو کہ ان کو سٹراٹفورڈ، ایسٹ لندن میں بنے اولمپک گاؤں لے کر جائیں گے۔اس گاؤں کو اولمپک کے کھلاڑیوں کے لیے خصوصی طور پر بنایا گیا ہے اور منگل سے یہ اپنے دروازے آنے والوں کے لیے کھول رہا ہے۔ اس گاؤں میں کل سولہ ہزار کھلاڑی اور ان کے منتظمین رہائش پذیر ہونگے۔

اولمپک کی ممنوعہ ادویات کی تشخیص کی لیبارٹری نے بھی اپنا کام شروع کر دیا ہے۔اس لیبارٹری کے آغاز کے ساتھ اولمپکس کی تاریخ کی سب سے بڑی ممنوعہ اور نشہ آور ادویات کے خلاف کارروائی کا آغاز بھی ہو گا جب یہ لیبارٹری چھ ہزار سے زائد ٹیسٹ لینے کا عمل شروع کرے گی۔ آدھے سے زائد کھلاڑی اس ٹیسٹ سے گزریں گے خاص طور پر ہر تمغہ جیتنے والا کھلاڑی۔

اسی بارے میں