’یقین نہیں آرہا کہ وائلڈ کارڈ نہیں ملا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے ٹینس کھلاڑی اعصام الحق کو ابھی تک لندن اولمپکس میں وائلڈ کارڈ نہ ملنے کا یقین نہیں آرہا ہے اور وہ اسے اپنے ساتھ ناانصافی سے تعبیر کرتے ہیں۔

اعصام الحق نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہیں اس بات کا افسوس ہے کہ وہ عالمی رینکنگ میں صرف ایک پوزیشن کے فرق سے لندن اولمپکس کے لیے کوالیفائی نہ کرسکے۔

تاہم انہیں اس بات کا یقین تھا کہ وائلڈ کارڈ کے ذریعے اولمپکس میں شرکت کا اپنا خواب پورا کرسکیں گے لیکن ان کا نام وائلڈ کارڈ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں نہیں آیا توانہیں جیسے دھچکہ لگا اور وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔

اعصام الحق کے لیے دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ پاکستان ٹینس فیڈریشن کی غفلت کے سبب بیجنگ اولمپکس میں بھی شرکت سے محروم رہے تھے۔

اعصام الحق سے جب پوچھا گیا کہ عالمی ٹینس کے کرتا دھرتاؤں نے وائلڈ کارڈ کے لیے کوئی تو پیمانہ مقرر کیا ہوگا، تو انہوں نے کہا ’یہ سوال آپ ان ہی سے پوچھیں۔ وائلڈ کارڈز ہر براعظم کے لیے مختلف تعداد میں مختص کئے جاتے ہیں۔ جہاں تک ایشیا کا تعلق ہے وہ پہلے ایشین تھے جو کٹ لائن سے باہر تھے یعنی وائلڈ کارڈ اگر کسی کو دیا جاتا تو وہ پہلے کھلاڑی ہوتے لیکن وہ ایشین ٹینس فیڈریشن کی ترجیح نہیں تھے۔ اس نے حیران کن طور پر جاپان کے نشی کوری اور سوئیڈا کو ڈبلز میں وائلڈ کارڈ دے دیے جبکہ وہ ڈبلز کےکھلاڑی ہی نہیں ہیں۔‘

اعصام الحق کا کہنا ہے کہ انہیں وائلڈ کارڈ نہ دیے جانے پر ورلڈ ٹور کے کئی کھلاڑی بھی حیران تھے لیکن جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔ اب وہ آنے والے مقابلوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کی کوشش ہوگی کہ وہ سال کے آخری ماسٹر ایونٹ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔

اس سال اپنی کارکردگی پر اعصام الحق کا کہنا ہے کہ ابتدائی تین ماہ انہیں اپنے نئے پارٹنر جولین راجر کے ساتھ ہم آہنگی میں دشواری ہوئی جس کی وجہ سے نتائج بھی اچھے نہیں رہے۔

’لیکن جب دونوں میں ہم آہنگی پیدا ہوگئی تو ہم نے ایسٹروئل اوپن اور گیری ویبر اوپن کے ٹائٹلز جیتے فرنچ اوپن کا سیمی فائنل کھیلا جبکہ ومبلڈن میں سخت مقابلے کے بعد ہم ہارے اور اس وقت ہم ڈبلز میں ساتویں نمبر پر ہیں۔‘

اسی بارے میں