’اولمپکس سکیورٹی کے معاہدے پر پچھتاوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption مینجمنٹ فیس کی مد میں دیے گئے ستاون ملین پونڈ واپس کرنے کا ارادہ نہیں: نک بکلز

لندن اولمپکس کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے والی کمپنی جی فور ایس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انہیں ان کھیلوں کی سکیورٹی کا معاہدہ کرنے پر پچھتاوا ہے۔

انہوں نے یہ بات برطانوی اراکین پارلیمان کے سامنے اس بات کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہی کہ ان کی کمپنی محافظ عملے کی مطلوبہ تعداد مہیا کرنے میں کیوں ناکام رہی۔

جی فور ایس کو ان کھیلوں کی سکیورٹی کے لیے دو سو چوراسی ملین پونڈ کا کانٹریکٹ دیا گیا تھا اور اب محافظین کی مطلوبہ تعداد مہیا نہ کرنے کی وجہ سے انہیں پچاس ملین پونڈ کا نقصان ہو سکتا ہے۔

کمپنی کی جانب سے دس ہزار سکیورٹی اہلکاروں کی مطلوبہ تعداد مہیا نہیں کی جا سکی اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اب ساڑھے تین ہزار فوجی تعینات کیے جا رہے ہیں اور یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ پولیس بھی اس کمی کو پورا کرنے میں مدد کر رہی ہے۔

جی فور ایس کے چیف ایگزیکٹو نِک بکلز کا کہنا ہے کہ جتنے پولیس اور فوجی اہلکار ان کھیلوں کی سکیورٹی میں مدد دیں گے ان پر آنے والے اخراجات کی رقم حکومت کو واپس کر دی جائے گی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی مینجمنٹ فیس کی مد میں دیے گئے ستاون ملین پونڈ واپس کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

برطانوی ارکانِ پارلیمان کی کمیٹی کے سربراہ کیتھ ویز نے ان کے اس اعلان کو حیران کن قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سکیورٹی عملے کی کمی پوری کرنے کے لیے اب فوج کی مدد حاصل کی گئی ہے

نِک بکلز نے یہ بھی کہا کہ انہیں کمپنی کی جانب سے کنٹریکٹ کی شرائط پوری نہ کرنے پر شدید مایوسی ہوئی ہے۔

گزشتہ دنوں اولمپکس کھیلوں سے پہلے اولمپکس کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اولمپک کھیلوں کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اولمپکس کھیلوں کے لیے کہ سیکورٹی فراہم کرانے والی کمپنی G4S کی جانب سے ضرورت کے مطابق سکیورٹی سٹاف تعینات نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کھیلوں کی سکیورٹی پر سمجھوتہ ہوا ہے۔

لیبر پارٹی کے ڈپٹی لیڈر ہرئیٹ ہرمن نے سکائی نیوز کو بتایا تھا کہ حکومت سکیورٹی کمپنی جی فور ایس کی نگرانی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اسی بارے میں