اولمپکس: خواتین ایتھلیٹس کی تاریخ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 20 جولائ 2012 ,‭ 09:16 GMT 14:16 PST

اب تک کی کہانی ۔ ۔ ۔

لندن اولمپکس 2012 میں دس ہزار سے زائد ایتھلیٹس حصہ لینے کے لیے تیار ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ ایک مرتبہ پھر خواتین کی تعداد بڑھے گی اور کل تعداد کے چالیس فیصد سے زیادہ ہوگی۔ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے دباؤ کے باعث تین مسلم ممالک نے جو ماضی میں تبدیلی سے گریز کرتے رہے ہیں، عندیہ دیا ہے کہ وہ کھیلوں میں خواتین بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ مردوں اور خواتین کے فرق کو کم کرنے کی ایک صدی پر محیط کوششوں کا نتیجہ ہے جس سے 1896 میں شروع ہونے والی جدید اولمپک موومنٹ متاثر ہوتی رہی ہے۔ نیچے دی گئی تصاویر پر رول اوور کریں اور ان واقعات کے بارے میں جانیے جن سے اولمپکس میں خواتین کے ساتھ تعصب کے خلاف ہونے والی کوششوں کا آغاز ہوا۔

مزید معلومات کے لیے ان تصویروں پر رول اوور کریں

  • دیگر اولمپک کھیل
  • اس سال کوئی اولمپک کھیل نہیں ہوئے
  1. ایتھنز 1896

    لیول زیرو

    ایتھنز 1896 لیول زیرو

    ’خواتین کا ایک کام ہے اور وہ ہے کہ جیتنے والے کو ہار پہنائیں‘ بیرن پائیر ڈی کوبرٹن، انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے بانی۔ پہلے جدید اولمپک میں خواتین کو حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ آرگنائزرز نے ان کی شمولیت کو ’ ناقابل عمل، غیر دلچسپ اور غلط‘ قرار دیا۔

  2. پیرس 1900

    پہلی 11

    پیرس 1900 پہلی 11

    پہلی مرتبہ ماڈرن اولمپک موومنٹ کی تاریخ میں گیارہ خواتین نے کھیلوں میں حصہ لیا۔ انگلینڈ کی شارلٹ کوپر نے ٹینس کے سنگل مقابلوں میں فتح حاصل کی جو کہ اولمپکس میں کسی خاتون کی جانب سے حاصل کردہ پہلا تمغہ تھا۔

  3. 1904

  4. 1908

  5. سٹاک ہوم 1912

    خواتین تیراک

    سٹاک ہوم 1912 خواتین تیراک

    موسم گرما کے کھیلوں میں پہلی مرتبہ خواتین کے سوئمنگ مقابلے متعارف کروائے گئے لیکن امریکہ کی ٹیم نے اپنی خواتین ایتھلیٹس کو اس میں شرکت نہیں کرنے دی۔ امریکی خواتین سے تمام کھیلوں میں لمبی سکرٹس پہننے کی گزارش کی گئی۔

  6. 1916

  7. 1920

  8. پیرس 1924

    سیبل سب سے آگے

    پیرس 1924 سیبل سب سے آگے

    امریکی تیراک سیبل بایور نے 100 میٹر بیک سٹروک سوئمنگ مقابلے میں سونے کا تمغہ جیتا۔ دو سال قبل بایور مردوں کا عالمی ریکارڈ توڑنے والی پہلی خاتون بنیں۔

  9. 1928

  10. 1932

  11. برلن 1936

    نسلی امتیاز کے خاتمے کی کوشش

    برلن 1936 نسلی امتیاز کے خاتمے کی کوشش

    لوئس سٹوکس اور ٹڈی پکٹ اولمپکس میں امریکہ کی نمائندگی کرنے والی پہلی افریقی نژاد امریکی خواتین تھیں۔

  12. 1940

  13. 1944

  14. لندن 1948

    افریقی نژاد امریکی کا سونے کا پہلا تمغہ

    لندن 1948 افریقی نژاد امریکی کا سونے کا پہلا تمغہ

    ایلس میری کوچمین اولمپکس میں سونے کا تمغہ جیتنے والی پہلی افریقی نژاد امریکی خاتون تھیں۔ انہوں نے ایتھلیٹکس میں امریکہ کی نمائندگی کی۔

  15. ہیلسنکی 1952

    خوبصورت مِکس

    ہیلسنکی 1952 خوبصورت مِکس

    اولمپک میں گھڑ سواری کے مختلف کھیلوں میں مردوں اور خواتین کی مِکسڈ ٹیموں کو اجازت دی جانے لگی۔ جنسی امتیاز سے قطع نظر بہترین گھڑ سواروں کے انتخاب کے لیے ملکوں پر کوئی پابندی نہیں رہی۔ گھڑ سواری کے سنگل مقابلوں میں خواتین کو مردوں کا مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی۔ ڈینمارک کی لِز ہارٹل نے پولیو کے خلاف اپنی جنگ جیتی اور ڈریسیج گرینڈ پری میں کانسی کا تمغہ جیتا۔

  16. 1956

  17. 1960

  18. 1964

  19. 1968

  20. میونخ 1972

    انہتر پر بھی پرجوش

    میونخ 1972 انہتر پر بھی پرجوش

    لورنا جونسٹن 69 سال کی عمر میں کھیلوں میں حصہ لینے والی پہلی عمر رسیدہ برطانوی خاتون بن گئیں۔ انہوں نے 1956 اور 1968 میں گھڑ سواری کے مقابلوں میں بھی حصہ لیا۔

  21. 1976

  22. 1980

  23. لاس انجیلس 1984

    پہلی افریقی مسلمان چمپیئن

    لاس انجیلس 1984 پہلی افریقی مسلمان چمپیئن

    مراکش سے تعلق رکھنے والی نوال المتوکل افریقہ میں پیدا ہونے والی پہلی مسلمان خاتون تھیں جو اولمپک چمپیئن بنیں۔ انہوں نے 400 میٹر رکاوٹوں والی دوڑ جیتی۔

  24. سیول 1988

    سونے کے 6 تمغے اور 4 عالمی ریکارڈ

    سیول 1988 سونے کے 6 تمغے اور 4 عالمی ریکارڈ

    مشرقی جرمنی کی کرسٹن اوٹو وہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے اولمپکس میں سونے کے چھ تمغے جیتے۔ انہوں نے چار عالمی ریکارڈ بھی قائم کیے۔

  25. بارسلونا 1992

    پینتیس اور گنتی جاری

    بارسلونا 1992 پینتیس اور گنتی جاری

    جدید اولمپکس کے آغاز کے تقریباً ایک صدی بعد بارسلونا میں حصہ لینے والے 169 ممالک میں سے پینتیس نے کسی بھی کھیلوں میں خواتین نہیں بھیجیں۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے مسلمان ممالک نے اولمپک موومنٹ کی اپیلوں کے باوجود خواتین کو مقابلوں میں نہیں بھیجا۔

  26. اٹلانٹا 1996

    ایران سے محبت کے ساتھ

    اٹلانٹا 1996 ایران سے محبت کے ساتھ

    ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد لیدا فاریمان موسم گرما کے کھیلوں میں حصہ لینے والی پہلی خاتون تھیں۔ وہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں اپنے ملک کا جھنڈا اٹھایا۔

  27. سڈنی 2000

    بحرین مثال بن گیا

    سڈنی 2000 بحرین مثال بن گیا

    تیراک فاطمہ حمید گیراشی اور دوڑ میں حصہ لینے والی مریم محمد حادی الحلی بحرین کی نمائندگی کرنے والی پہلی خواتین تھیں۔ اس سے قبل بحرین نے 1984 کے پیرالمپکس میں خواتین کو بھیجا تھا۔

  28. ایتھنز 2004

    حجاب میں ایتھلیٹکس

    ایتھنز 2004 حجاب میں ایتھلیٹکس

    افغانستان سے تعلق رکھنے والی روبینہ جلالی جو روبینہ مقیمیار کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں نے ایتھلیٹک مقابلوں میں حجاب پہن کر حصہ لے کر دنیا کو اپنی جانب متوجہ کیا۔

  29. بیجینگ 2008

    روایت سے ہٹ کر

    بیجینگ 2008 روایت سے ہٹ کر

    دو عرب ممالک، متحدہ امارات اور عمان نے گزشتہ چھ اولمپکس میں صرف مردوں کی ٹیمیں بھیجنے کے بعد پہلی مرتبہ خواتین کو شامل کیا۔

  30. لندن 2012

    100%

    لندن 2012 100%

    تین مسلمان ممالک - سعودی عرب، برونائی، قطر - ان ممالک نے کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے کبھی خواتین کو نہیں بھیجا لیکن اب خواتین ایتھلیٹس کو اپنے وفد کا حصہ بنانا کا عندیہ دیا ہے۔ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے خبردار کیا تھا کہ ایسے کسی بھی ملک پر پابندی عائد کر دی جائے گی جو جنسی برابری کی شرائط پوری نہیں کرتا۔

اولمپکس میں خواتین: ایتھلیٹس بمقابلہ ممالک

نیچے دیے گئے گراف میں 1896 کے پہلے جدید اولمپک کھیلوں سے اب تک خواتین کی کھیلوں میں شمولیت میں ہونے والے بتدریج اضافے کا تناسب دکھایا گیا ہے۔

xx% ان ممالک کا تناسب جو اولمپکس میں خواتین ایتھلیٹس بھیج رہے ہیں
xx% کھیلوں میں خواتین ایتھلیٹس کا تناسب

ایتھنز
1896
پیرس
1900
سینٹ لوئس
1904
لندن
1908
سٹاک ہوم
1912
اینٹورپ
1920
پیرس
1924
ایمسٹرڈیم
1928
لاس اینجلس
1932
ان ممالک کا تناسب جو اولمپکس میں خواتین ایتھلیٹس بھیج رہے ہیں 0% 2% 1% 2% 2% 2% 4% 10% 9%
کھیلوں میں خواتین ایتھلیٹس کا تناسب 0% 21% 8% 18% 39% 45% 45% 54% 49%
برلن
1936
لندن
1948
ہیلسنکی
1952
میلبرن
1956
روم
1960
ٹوکیو
1964
میکسیکو سٹی
1968
میونخ
1972
مونٹریال
1976
ان ممالک کا تناسب جو اولمپکس میں خواتین ایتھلیٹس بھیج رہے ہیں 8% 9% 11% 16% 11% 13% 14% 15% 21%
کھیلوں میں خواتین ایتھلیٹس کا تناسب 53% 56% 59% 54% 54% 57% 48% 54% 72%
ماسکو
1980
لاس انجیلس
1984
سیول
1988
بارسلونا
1992
اٹلانٹا
1996
سڈنی
2000
ایتھنز
2004
بیجینگ
2008
لندن
2012
ان ممالک کا تناسب جو اولمپکس میں خواتین ایتھلیٹس بھیج رہے ہیں 22% 23% 26% 29% 34% 38% 41% 42% 44%
کھیلوں میں خواتین ایتھلیٹس کا تناسب 68% 67% 73% 80% 86% 96% 96% 96% 100%

تصاویر: گیٹی، اے پی، دی برٹش ہارس سوسائٹی

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔