پندرہ اولمپکس میں شرکت کا حاصل دس تمغے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان 1948 کے لندن اولمپکس سے 2008 کے بیجنگ اولمپکس تک سوائے ایک اولمپکس کے تمام مقابلوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتا رہا ہے۔

افغانستان میں روسی موجودگی کے خلاف جن ملکوں نے 1980 کے ماسکو اولمپکس کا بائیکاٹ کیاتھا ان میں پاکستان بھی شامل تھا۔

پندرہ اولمپکس میں پاکستان نے اب تک گیارہ کھیلوں میں حصہ لیا ہے لیکن ان میں سے صرف تین کھیلوں ہاکی، باکسنگ اور پہلوانی میں وہ دس تمغے حاصل کرسکا ہے جن میں تین طلائی چاندی کے تین اور کانسی کے چار تمغے شامل ہیں۔

پاکستان نے تینوں طلائی تمغے ہاکی میں جیتے ہیں۔ اس نے یہ کامیابیاں 1960 کے روم اولمپکس، 1968کے میکسیکو اولمپکس اور 1984کے لاس اینجلس اولمپکس میں حاصل کی ہیں۔ اس کے علاوہ ہاکی میں پاکستان نے چاندی کے تین اور کانسی کے دو تمغے بھی حاصل کیے ہیں۔

پاکستان نے کانسی کے دیگر دو تمغے پہلوانی اور باکسنگ میں جیتے ہیں۔پہلوانی میں پاکستان کے محمد بشیر نے 1960کے روم اولمپکس میں 73 کلوگرام کیٹگری میں کانسی کا تمغہ جیتاتھا۔

1988 کے سیؤل اولمپکس میں باکسر حسین شاہ مڈل ویٹ کیٹگری میں کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

ہاکی واحد کھیل ہے جس میں پاکستان کی شرکت ہر اولمپکس میں رہی ہے۔

ایتھلیٹکس میں پاکستان نے چودہ اولمپکس میں شرکت کی ہے ۔

پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں جب پاکستانی ایتھلیٹس ایشین گیمز اور کامن ویلتھ گیمز میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کررہے تھے انہیں اولمپکس میں بھی شرکت کا بھرپور موقع فراہم کیا گیا تاہم وہ عالمی معیار کے قریب نہ آسکے۔

پاکستانی ایتھلیٹس کی سب سے قابل ذکر کارکردگی 1956 کے میلبرن اولمپکس میں رہی جس میں عبدالخالق سو اور دو سو میٹرز کے سیمی فائنل تک پہنچے اور غلام رازق نے ایک سو دس میٹرز ہرڈلز کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔چار ضرب سو میٹرز ریلے میں بھی پاکستانی ٹیم سیمی فائنل تک پہنچی۔

روم اولمپکس میں محمد اقبال ہیمرتھرو میں بارہویں نمبر پر آئے اور غلام رازق ایک بار پھر ایک سو دس میٹرز ہرڈلز کے سیمی فائنل تک پہنچے۔

1996 کے اٹلانٹا اولمپکس سے پاکستان کی خواتین ایتھلیٹس بھی اولمپکس میں شرکت کررہی ہیں۔

شبانہ اختر اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون ایتھلیٹ ہیں۔ انہوں نے اٹلانٹا اولمپکس میں لانگ جمپ میں حصہ لیا تھا۔

ان کے بعد شازیہ ہدایت، سمیرا ظہور اور صدف صدیقی کو اولمپکس کے ایتھلیٹکس مقابلوں میں شرکت کا موقع ملا لیکن ان کی کارکردگی بہت ہی مایوس کن رہی۔

ہاکی اور ایتھلیٹکس کے بعد اولمپکس میں پاکستان کی تیسری اہم شرکت باکسنگ میں رہی ہے۔ پاکستانی باکسرز تیرہ اولمپکس میں حصہ لے چکے ہیں۔

1968 کے میکسیکو اولمپکس میں پاکستان نے صرف ہاکی اور فری اسٹائل ریسلنگ میں شرکت کی تھی۔

2008کے بیجنگ اولمپکس میں پہلی بار پاکستانی باکسرز کوالیفائی نہ کرسکے اور لندن اولمپکس میں بھی یہ صورتحال رہی ہے۔

1988 کے سول اولمپکس میں جب ہاکی سے میڈل جیتنے کی امید پوری نہ ہوسکی حسین شاہ باکسنگ رنگ سے خوشی کی خبر لے آئے اور انہوں نے کانسی کا تمغہ جیتا۔

وہ مڈل ویٹ میں مکسیکو زائرے اور ہنگری کے باکسرز کو شکست دے کر کوارٹرفائنل میں پہنچے جہاں کینڈا کے باکسر ایگرٹن مارکس نے انہیں شکست دی۔

پاکستان نے ابتدائی چار اولمپکس میں اپنے سائیکلسٹس بھی باقاعدگی سے بھیجے لیکن وہ خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے البتہ 1956 کے میلبرن اولمپکس میں حصہ لینے والے سائیکلسٹ شہزادہ شاہ رخ کو اولمپکس کے دو مختلف کھیلوں میں پاکستان کی نمائندگی کا منفرد اعزاز حاصل ہوا کیونکہ وہ اس سے قبل 1948 کے اولمپکس میں حصہ لینے والی ہاکی ٹیم کے نائب کپتان تھے۔

اولمپکس میں پاکستانی ویٹ لفٹرز اور پہلوانوں کی شرکت بھی باقاعدگی سے ہوتی رہی تھی لیکن سوائے محمد بشیر کے ایک کانسی کے تمغے کے کسی بھی ویٹ لفٹر یا پہلوان نے اچھی کارکردگی نہیں دکھائی۔

پاکستان کے تیراکوں نے پہلے تین اولمپکس میں کسی متاثر کن کارکردگی کے بغیر حصہ لیا اور اب وہ پچھلے چار اولمپکس میں وائلڈ کارڈ کی بدولت حصہ لے رہے ہیں۔

2004 کےایتھینز اولمپکس میں رباب رضا اولمپکس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون تیراک بنیں۔ چار سال بعد کرن خان نے بیجنگ اولمپکس میں شرکت کی۔

پاکستان نے تین اولمپکس کے کشتی رانی مقابلوں میں بھی حصہ لیا ہے لیکن ایشیائی سطح پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پاکستانی کشتی راں اولمپکس میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے اس کی وجہ یہ رہی کہ انہیں اولمپکس میں چار سو ستر کلاس میں حصہ لینا پڑا جب کہ ان کی ایشین گیمز میں کامیابیاں انٹرپرائز میں رہی تھیں۔

پاکستانی شوٹرز نے ہیلسنکی ۔ میلبرن اور روم اولمپکس میں حصہ لیا لیکن اپنے ہدف سے وہ بہت دور رہے۔

2000 کے سڈنی اولمپکس سے شوٹرز کو شرکت کا دوبارہ موقع ملا ہے۔ سڈنی اور ایتھنز میں خرم انعام مایوس کن کارکردگی کے ساتھ بالترتیب تئیسویں اور سنتیسویں نمبر پر رہے جبکہ بیجنگ میں صدیق عمر کی کارکردگی بھی ان سے زیادہ مختلف نہ تھی۔

پاکستان نے اولمپکس میں ٹیبل ٹینس اور روئنگ میں بھی ایک ایک مرتبہ حصہ لیا ہے لیکن دونوں کھیلوں میں کارکردگی مایوس کن رہی۔

اسی بارے میں