لندن اولمپکس میں افریقہ کے دس ستارے

لندن اولمپکس دو ہزار بارہ میں افریقہ کے ترپن ممالک سے کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں۔ تو اس برِاعظم میں سے کون ہے جو کہ ان مقابلوں میں کامیاب ہو سکے گا؟

بی بی سی کے فارائی منگازی نے ان میں دس مایہناز کھلاڑیوں کو چنا ہے جو کہ ان کی نظر میں تمغے جیت سکتے ہیں۔

سیگن توریولا، نائجیریا: ٹیبل ٹینس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

افریقہ کے کامیاب ترین ٹیبل ٹینس کھلاڑی سیگن توریولا کی اولمپک مقابلوں میں چھٹی شرکت ہے۔ انہوں نے پہلی بار انیس سو بانوے میں بارسلونا اولمپکس میں حصہ لیا تھا۔

چار سال قبل بیجنگ میں کوائٹر فائنل تک پہنچ کر وہ ٹیبل ٹینس کی اولمپک تاریخ کے کامیاب ترین افریقی کھلاڑی بنے۔

نو بھائیوں میں سب سے چھوٹے سیگن فرانس میں پیشہ ورانہ طور پر کھیلتے ہیں۔ اس سے پہلے کامن ویلتھ چیمپیئن شپ کے علاوہ وہ افریقہ کا ہر بڑا ٹیبل ٹینس ٹورنامنٹ جیت چکے ہیں۔ دو دہائیوں تک افریقہ میں اس کھیل کے میدانوں پر راج کرنے والے اٹھتیس سالہ سیگن توریولا کے شاید یہ آخری اولمپک مقابلے ہیں۔

بنجامن باوکپتی، ٹوگو: کائیک کشتی رانی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

افریقی ملک ٹوگو کا پہلا اولمپک تمغہ بیجنگ میں بنجامن باوکپتی نے کائیک کشتی رانی میں حاصل کیا۔ کانسی کا یہ تمغہ جیتنے والے وہ پہلے سیاہ فام شخص ہیں جس نے کشتی رانی کے مقابلوں میں کوئی بھی تمغہ حاصل کیا۔

فرانس میں پیدا ہونے والے بنجامن کی والدہ فرانسیسی جبکہ والد کا تعلق ٹوگو سے ہے۔ البتہ بیجنگ مقابلوں کے بعد سے انہیں فٹنس کے مسائل رہے ہیں تاہم لندن مقابلوں میں وہ بڑی امیدوں کے ساتھ شرکت کر رہے ہیں۔

بنجامن باوکپتی کے یہ تیسرے اولمپک مقابلے ہیں۔

کرسٹی کوونٹری، زمبابوے: تیراک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کرسٹی کوونٹری بیک سٹروک تیراکی میں دو سو میٹر کا ریکارڈ رکھتی ہیں اور اپنے گزشتہ دو اولمپک مقابلوں میں انہوں نے دو طلائی، چار چاندی اور ایک کانسی کے تمغے جیتے ہیں۔

اٹھائیس سالہ کرسٹی کو زمبابوے میں ایک قومی ستارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور انھیں پانچ مرتبہ افریقہ کا بہترین تیراک چنا گیا ہے۔

سیفیسو نہلوپو، جنوبی افریقہ: سائیکلنگ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ماضی میں چاندی اور کانسے کے تمغے حاصل کرنے والے سیفیسو نہلوپو نے ورلڈ چیئمپیئن شپ میں جنوبی افریقہ کی نو بار نمائندگی کی ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

بیجنگ اولمپک مقابلوں میں جب بی ایم ایکس سائیکلنگ کو شامل کیا گیا تو مقابلوں میں گرنے کے باوجود فائنل تک پہنچے۔ اگلے سال ایک اور حادثے میں ان کی گردن پر شدید چوٹ آئی۔

ان مقابلوں میں اگر ان کے جسم نے ان کا ساتھ دیا تو وہ ضرور ایک دلچسپ مقابلہ پیش کریں گے۔

آیا میڈانی، مصر: ماڈرن پینٹاتھلیٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

آیا میڈانی نے پندرہ سال کی عمر میں دو ہزار چار ایتھنز اولمپکس میں شرکت کی جس کے بعد وہ مصر کے معروف ترین کھلاڑیوں میں شامل ہوگئیں۔

آیا میڈانی جن مقابلوں میں حصہ لیتی ہے ان میں انھیں دوڑنا، شوٹنگ، شمشیر رانی، گھوڑ سواری اور تیرکی کرنا ہوتی ہے جبکہ ان کے مذہبی عقائد کے مطابق انھیں ایک خاص قسم کا لباس پہننا ہوتا ہے۔ آیا میڈانی واحد پینٹاتھلیٹ کھلاڑی ہیں جو حجاب پہن کر مقابلوں میں حصہ لیتی ہیں۔

لندن اولمپکس ان کے تیسرے اولمپک مقابلے ہیں اور وہ بیجنگ میں اپنی آٹھویں پوزیشن سے بہتر کارکردگی کی خواہاں ہیں۔

کاسٹر سیمینیا، جنوبی افریقہ: ایتھلیٹ آٹھ سو میٹر دوڑ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کاسٹر سیمینیا نے جب برلن میں دو ہزار نو میں ورلڈ چیمپیئن شپ جیتی تو ان کے جنس کے بارے میں سوالات اٹھائے جانے لگے۔

البتہ وہ اپنی دو ہزار نو کی کارکردگی تو دہراہ نہیں سکیں، تاہم وہ اس وقت خواتین کا آٹھ سو میٹر کا عالمی ریکارڈ توڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ خواتین کی دوڑوں کے میدان میں انیس سو تراسی میں بنے والا یہ ریکارڈ اس کھیل کا طویل ترین عرصے تک قائم رہنے والا ریکارڈ ثابت ہوا ہے۔

وہ پہلی دفعہ اولمپک میں شرکت کر رہیں ہیں اور سابق ورلڈ اور اولمپک چمپئین ماریا موتولہ ان کی کوچ ہیں۔

تیرونیش دیبابا، ایتھوپیا: طویل فاصلے کی دوڑ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایتھوپیا کی تیرونیش دیبابا پانچ اور دس ہزار میٹر ریس کی دفاعی چمپیئن ہیں اور انھیں لمبی دوڑ میں دنیا کی تیز ترین خاتون کے طور پر مانا جاتا ہے۔

بیجنگ اولمپکس کے بعد وہ فٹنس کے مسائل کا شکار رہیں جس کی وجہ سے وہ ایک لمبے عرصے تک مقابلوں میں حصہ نہ لے سکیں لیکن اب اچھی فارم میں ہیں۔

لندن اولمپکس میں تیرونیش دیبابا کا ہم وطن میسیریٹ دیفار اور کنیائی ویوائن چیریوٹ سے مقابلہ متوقع ہے۔

امانتلی مونٹشو، بوٹسوانا:چار سو میٹر ریس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امانتلی مونٹشو جو ورلڈ، کامن ولتھ اور افریقن چیمپیئن ہیں کوشش کریں گی کہ لندن میں اپنے ملک کا پہلا اولمپک تمغہ جیت لیں۔

اولمپک مقابلوں میں یہ ان کی تیسری شرکت ہے۔

ایتھنز میں وہ زیادہ کامیاب نہ تھیں، تاہم بیجنگ میں فائنل تک پہنچی اور لندن میں وہ طلائی تمغے کے لیے فیوریٹ ہیں۔

مئیری کیٹانی، کینیا: میراتھن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مئیری کیٹانی تین سال پہلے دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئیں جب انھوں نے ورلڈ ہاف میراتون جیتی اور پھر انھوں نے اس میں ورلڈ ریکارڈ بنایا جو اب بھی قائم ہے۔

انھوں نے نیویارک اور لندن میں مقابلے جیتے ہیں اور پورے میراتون ریس میں حصہ لینے کے بعد ان کی کارگردگی اور بھی بہتر ہو گئی ہے۔

مئیری کو طلائی تمغے کے لیے پسندیدہ کھلاڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈیوڈ رودیشہ، کینیا: آٹھ سو میٹر دوڑ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ورلڈ چیمپیئن اور ورلڈ ریکارڈ رکھنے والے ڈیوڈ رودیشہ پچھلے دو سال سے آٹھ سو میٹر ڈوڑوں کے کامیاب ترین کھلاڑی ہیں۔

اگست دو ہزار دس میں انھوں نے ایک ہی ہفتے میں دو دفعہ ورلڈ ریکارڈ تھوڑا اور پچھلے سال جنوبی کوریا میں ورلڈ چیمپیئن شپ میں طلائی تمغہ جیتا۔

انھیں اولمپک ٹائٹل کے لیے پسندیدہ قرار دیا رہا ہے۔

لندن اولمپکس ڈیوڈ کے پہلے اولمپک مقابلے ہیں۔ ان کے والد نے میکسیکو شہر میں انیس سو آٹسھٹ میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔