پاکستانی خاتون تیراک کا اولمپکس سفر ختم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انعم بانڈے مجموعی طور پر کوالیفائنگ مقابلوں کی فاتح امریکی تیراک بیزل الزبتھ سے ایک منٹ دو سیکنڈ پیچھے رہیں

لندن اولمپکس کے باقاعدہ آغاز کے بعد پہلے دن کے مقابلوں میں پاکستان کی تیراک انعم بانڈے ابتدائی مقابلوں میں ہی مقابلے سے باہر ہوگئی ہیں۔

انعم بانڈے نے سنیچر کو چار سو میٹر انفرادی میڈل مقابلوں میں حصہ لیا اور وہ کوالیفائنگ مقابلوں میں شریک پینتیس تیراکوں میں آخری نمبر پر رہیں۔

انہوں نے مقررہ فاصلہ پانچ منٹ چونتیس اعشاریہ چھ چار سیکنڈ میں طے کیا اور وہ ہیٹ میں چوتھے اور آخری نمبر پر آئیں۔

انعم بانڈے چار سو میٹر میڈل مقابلوں کے ابتدائی راؤنڈ میں یہ فاصلہ پانچ منٹ سے زیادہ عرصے میں طے کرنے والی واحد تیراک تھیں۔

وہ مجموعی طور پر کوالیفائنگ مقابلوں کی فاتح امریکی تیراک بیزل الزبتھ سے ایک منٹ دو سیکنڈ پیچھے رہیں۔

انعم بانڈے اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی تیسری خاتون تیراک ہیں۔ ان سے قبل رباب رضا دو ہزار چار کے ایتھنز اور کرن خان دو ہزار آٹھ کے بیجنگ اولمپکس میں حصہ لے چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انعم بانڈے اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی تیسری خاتون تیراک ہیں

انعم بانڈے نے بھی ان دونوں تیراکوں کی طرح وائلڈ کارڈ کی بنیاد پر اولمپکس میں شرکت کی۔

انعم بانڈے وائلڈ کارڈ کی بنیاد پر اولمپکس میں شرکت کی اور ان کا انتخاب گزشتہ سال شنگھائی میں ہونے والی ورلڈ فینا چیمپئن شپ میں ان کی کارکردگی کے سبب عمل میں آیا تھا جس میں انہوں نے دو نئے قومی ریکارڈ قائم کیے تھے۔

انعم بانڈے کا تعلق لاہور سے ہے لیکن اس وقت وہ تعلیم کے سلسلے میں اپنے والدین کے ساتھ لندن میں مقیم ہیں۔

لندن اولمپکس میں پاکستان کے ایک مرد تیراک اسرار حسین بھی حصہ لے رہے ہیں۔ وہ اکتیس جولائی کو و میٹر فری سٹائل تیراکی کے مقابلوں میں شریک ہوں گے۔

پاکستانی عوام کی نظریں تیس جولائی سکیٹ رائفل شوٹر، خرم انعام پر ہوں گی اور اسی دن پاکستانی ہاکی ٹیم پہلے میچ کے لیے سپین کے خلاف میدان میں اترے گی۔

اسی بارے میں