چینی بیڈمنٹن کوچ نے معافی مانگ لی

یو یئینگ اور وانگ زیاؤلی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یو یئینگ اور وانگ زیاؤلی پر الزام ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر میچ ہارا تھا

لندن میں جاری اولمپک کھیلوں کے دوران جان بوجھ کر میچ ہارنے کے الزام کے بعد نا اہل قرار دی گئی چین کی بیڈمنٹن ٹیم کی کوچ نے اپنی غلطی پر معافی مانگ لی ہے۔

لی یونگبو نے کہا ہے ' میری غلطی ہے۔ جان بوجھ کر ہارنے کا الزام مجھ پر لگنا چاہیے'۔

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا میں کوچ لی یونگبو کا بیان شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے ' ایک ہیڈ کوچ ہونے کے تحت مجھے چین میں بیڈمنٹن کے شائقین اور چین میں ٹی وی دیکھنے والوں سے معافی مانگنی چاہیے'۔

اسی دوران جان بوجھ کر میچ ہارنے کے الزام کے بعد نااہل قرار دی گئی چینی بیڈمینٹن کھلاڑی یویئینگ نے کہا ہے کہ وہ اب بیڈمنٹن کو الوداع کہ دیں گی۔

حالانکہ اس سے قبل چین کے سرکاری میڈیا میں یہ بات شائع ہوئی ہے کہ نااہل قرار دیئے گئے کھلاڑی اپنی غلطی کے لیے معافی مانگیں گے۔

بیڈمنٹن کھلاڑي یویئینگ نے ٹوئٹر جیسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹینسینٹ ویبو پر لکھا ہے ' میں آخری بار کسی مقابلے میں حصہ لے رہی ہوں۔ بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن الوداع، الوداع بیڈمنٹن'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کا خواب ' بری طرح سے ٹوٹ گیا ہے'۔

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ وہ صرف بیڈمنٹن کے نئے ضوابط کا صرف اس لیے فائدہ اٹھا رہی تھیں کہ وہ آگے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں۔

انہوں نے لکھا ہے ' صرف اتنی سے بات تھی۔ اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ لیکن ہاں اس کے لیے کوئی معافی نہیں ہے'۔

یویئنیگ کی ساتھی کھلاڑی وانگ زیاؤلی نے لکھا ہے کہ اولمپکس کے دوران بیڈمیٹن مقابلے کے نئے ضوابط میں خامیوں کا خمیازہ کھلاڑیوں کو بھگتانا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر لکھا ہے ' آپ نے صرف ایک کھیل کو منسوخ نہیں کیا ہے بلکہ میرے خواب کو کینسل کیا ہے'۔

بیڈمنٹن میں نئے ضابطے 'راؤنڈ روبن' سٹیج کا مطلب ہے کہ ایک میچ ہارنے سے دوسرا میچ آسان ٹیم کے ساتھ کھیلا جا سکتا ہے۔

اس میچ میں سب سے لمبی ریلی صرف چار شاٹس پر مشتمل تھی اور میچ کے دوران ریفری نے ایک مرتبہ کورٹ میں آ کر کھلاڑیوں کو تنبیہ بھی کی۔

اس میچ سے قبل یہ دونوں ٹیمیں کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکی تھیں اور اطلاعات کے مطابق دونوں ہی یہ میچ ہار کر کوارٹر فائنل میں آسان حریف کا سامنا کرنا چاہتی تھیں۔

جنوبی کوریائی کھلاڑیوں نے تو اس صورتحال پر تبصرہ نہیں کیا تاہم چینی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ وہ ناک آْؤٹ مرحلے کے لیے اپنی توانائی بچا رہی تھیں۔

یویئینگ اور وانگ زیاؤلی لندن میں جاری اولمپکس مقابلوں میں شریک ان آٹھ خاتون کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن کے خلاف بیڈمنٹن کی عالمی فیڈریشن نے’میچ جیتنے کی بھرپور کوشش نہ کرنے‘ پر انضباطی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

باقی چھ کھلاڑیوں میں سے چار کا تعلق جنوبی کوریا اور دو کا انڈونیشیا سے ہے۔

یویئینگ اور وانگ زیاؤلی اور جنوبی کوریا کی جونگ کیونک یون اور کم ہانا پر دلجمعی سے نہ کھیلنے کا الزام اولمپکس میں ان کے میچ میں تماشائیوں کی شدید ہوٹنگ کے بعد لگایا گیا۔

اس سے قبل چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق چینی اولمپک کمیٹی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ کمیٹی کسی بھی ایسے رویے کی مخالف ہے جو کھیل کی روح اور اخلاقیات کے خلاف ہو۔

چین نے بیڈمینٹن کی عالمی فیڈریشن کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ کھلاڑیوں کو چاہیے کہ وہ اس غلطی کی سنجیدگی کو سمجھیں۔ چین کی سرکاری نیوز ایجنسی میں شائع خبر میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کھلاڑی عوام سے معافی مانگیں کہ ایسی غلطی وہ دوبارہ کبھی نہیں کریں گی۔

اسی بارے میں