اولمپکس کےدسویں روز، چین کے چونسٹھ تمغے

آخری وقت اشاعت:  پير 6 اگست 2012 ,‭ 12:41 GMT 17:41 PST

لندن اولمپکس کے دسویں روز بیس مختلف کھیلوں کے مقابلے ہوئے جن میں آٹھ کھیلوں میں اٹھارہ طلائی تمغوں کا فیصلہ کیا گیا۔

اب تک کے مقابلوں میں چین نے برتری گرقرار رکھی ہوئی ہے اور اس نے مجموعی طور پر چونسٹھ تمغے حاصل کیے ہیں جن میں اکتیس طلائی تمغے ہیں۔

امریکہ مجموعی طور پر تریسٹھ تمغوں کے ساتھ دوسری پوزیشن پر ہے جس میں انتیس طلائی تمغے ہیں۔

جمیکا سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹ یوسین بولٹ نے اولمپکس کے نویں دن مردوں کی سو میٹر دوڑ میں طلائی تمغہ جیت کر دنیا کے سب سے تیز دوڑنے والے مرد کا اعزاز برقرار رکھا۔

برطانیہ بتالیس تمغوں کے ساتھ تیسری پوزیشن پر ہے۔ ان تمغوں میں اٹھارہ طلائی تمغے ہیں۔

کلِک لندن اولمپکس 2012 پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

دسویں دن کے کھیل

کیریبین کے ایک جزیرے کریناڈا سے تعلق رکھنے والے ایک اتھیلیٹ نے اپنے ملک کے لیے اوّلین تمغہ حاصل کیا ہے۔

انیس سالہ کیرانی جیمز نے مردوں کی چار سو میٹر دوڑ میں سونے کا تمغہ جیتا۔ اس مقابلے میں پہلے ویسٹ انڈیز کے اتھیلیٹس نے سبقت حاصل کر لی تاہم کامیابی کیرانی کا مقدر بنی۔

اس طرح قبرص نے بھی اپنا پہلا تمغہ کشتی رانی کے مقابلوں میں حاصل کیا۔

اب تک کے اولمپک مقابلوں میں سب سے زیادہ جذباتی منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب ڈومینیکن ریپبلک سے تعلق رکھنے والے فیلیکس سینچیز تقسیم اعزازات کے دوران روتے رہے۔

انہوں نے چار سو میٹر کی رکاوٹوں کی دوڑ میں سونے کا تمغے حاصل کیا۔ انہوں نے اپنی جیت کو اپنی مرحوم دادی کے نام کیا۔

لندن اولمپکس میں جمناسٹک کے غیر متوازی بارز کے فائنل مقابلوں میں روس کی عالیہ مصطفینہ نے طلائی تمغہ جیت لیا ہے جبکہ چین کی جمناسٹ کیژن ژئی نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا ہے۔

برطانیہ کی جمناسٹ بیتھ ٹویڈل ان مقابلوں میں تیسرے نمبر پر رہیں۔ ٹویڈل کا جمناسٹک میں یہ آخری تمغہ تھا کیوں کہ اب وہ ریٹائر ہو رہی ہیں۔

جوڈو میں امریکی کھلاڑی نکولس ڈیپولو کو بھنگ استعمال کرنے پر بین الاقوامی اولمپکس کمیٹی نے نااہل قرار دے دیا ہے۔

اولپمکس مقابلوں کے دسویں روز دنیا کی نظریں ایتھلیٹ کے مقابلوں پر جمی رہیں گی کیونکہ اتھلیٹک کے پانچ مختلف شعبوں میں فائنل مقابلے ہو رہے ہیں۔

ان میں خواتین کی پول والٹ، خواتین کی شاٹ پٹ، خواتین کی تین ہزار میٹر سٹیپل چیز، مردوں کے چار سو میٹر کے ہرڈل دوڑ اور مردوں کی چار سو میٹر دوڑ کے فائنل شامل ہیں۔

گریناڈا سے تعلق رکھنے والے چار سو میٹر دوڑ میں عالمی چیمپیئن کیرانی جیمز چار سومیٹر دوڑ کے سیمی فائنل میں باآسانی جیت کر فائنل میں پہنچ گئے ہیں۔

جیمز نے چار سو میٹر کا فاصلہ چوالیس اعشاریہ پانچ نو سیکنڈ میں طے کیا اور انھوں نے بھامس کے کرس براؤن اور

گریناڈا اور ٹوباگو کے لالونڈ گورڈن سیمی فائنل مقابلوں میں سب سے تیز رفتار ثابت ہوئے اور انھوں نے چار سو میٹر صرف چوالیس آعشاریہ پانچ آٹھ سیکنڈ میں یہ فاصلہ مکمل کیا۔

سیمی فائنل مقابلوں میں آسکر پسٹوریس نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ آسکر پسٹوریس پیدائشی طور پر دونوں ٹانگوں سے معذور ہیں اور انھوں نے گھٹنوں سے نیچے کاربن فائبر بلیڈ باندھ کر مردوں کی دوڑ میں حصہ لیا۔

انھیں سنہ دو ہزار آٹھ میں اولمپکس فیڈریشن کی طرف سے ان مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی لیکن وہ ان مقابلوں کے فائنل میں نہیں پہنچ پائے۔

اولمپکس کے پہلے معذور ایتھلیٹ

آسکر پسٹوریس نے مردوں کے چار سو میٹر کے سیمی فائنل مقابلوں میں شکست کے بعد کہا ہے کہ انھوں نے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے اور لندن اولمپکس میں شرکت کرنے کا ہدف حاصل کر کے وہ کوئی بات ثابت کرنا نہیں چاہتے تھے۔

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے پچیس سالہ آسکر پسٹوریس نے لندن اولمپکس میں شرکت کا ہدف حاصل کرکے یقینی طور پر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

آسکر پسٹوریس پیدائشی طور پر دونوں ٹانگوں میں گھٹنوں اور پنڈیلیوں کے درمیان کی ہڈی سے محروم تھے۔ چلنے کی عمر سے پہلے ہی ان کی دونوں ٹانگوں کو گھٹنوں سے نیچے کاٹ دیا گیا۔

پسٹوریس نے مصنوعی ٹانگوں کے ساتھ چلنا سیکھا اور بچپن میں وہ انتہائی پھرتیلے تھے۔ سولہ برس کی عمر میں وہ ایک اتھیلٹ کے طور پر اپنے نام بنا چکے تھے۔

انھوں نے سنہ دو ہزار چار کے ایتھنز پیرا اولمپکس میں انہوں نے دو سو میٹر میں طلائی اور سو میٹر میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

پسٹوریس نے اتوار کو ہونے والے سیمی فائنل مقابلوں میں آٹھویں پوزیشن حاصل کی اور یوں وہ فائنل میں پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

ان مقابلوں کے بعد انھوں نے کہا کہ وہ کچھ ثابت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اپنی پوری کوشش کرنا چاہتے اور جتنا زور مکمن تھا وہ لگانا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا انھیں یہ سب کچھ بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے لیکن جو حمایت اور محبت لوگوں سے ملی ہے اس سے ان میں مزید انکساری آئی ہے۔

’ستر ہزار لوگوں کے سامنے دوڑنا ناقابلِ یقین تھا۔ اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ ایک لاکھ ستر ہزار لوگوں کے سامنے دوڑ رہے ہوں۔‘

سنہ دو ہزار آٹھ میں کھیلوں کی ثالثی کرنے والی عدالت نے انھیں عام مردوں کے مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی۔

پسٹرویس نے چار سو میٹر کے ابتدائی مقابلوں میں مطلوبہ فاصلہ پینتالیس آعشاریہ چار چار سیکنڈ میں طے کیا تھا۔ لیکن سیمی فائنل میں ہو اتنی اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے اور انہوں نے وہی فاصلہ چھالیس آعشاریہ پانچ چار سیکنڈ میں طے کیا۔

وہ مردوں کی چار سو ضربِ چار سو میٹرریلے ریس میں بھی شرکت کر رہے ہیں جس کے بعد وہ پیرا اولمپکس میں شرکت کریں گے۔


دسویں روز کی تصاویر

لندن کی زندگی پر اولمپکس کا اثر

اس تصویری ایڈیٹر کو استعمال کرنے کے لیے آپ کے کمپیوٹر پر فلیش پلیئر کا ورژن 8 یا اس سے جدید ورژن انسٹال ہونا چاہیے۔
اسے انسٹال کرنے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن کر کلک کریں۔

فلیش پلیئر حاصل کریں

اولمپکس میڈل ٹیبل



لائیو: اولمپکس 2012

اس مواد کو دیکھنے کے لیے آپ کے براؤزر کا جاوا سکرپٹ کو چلانا ضروری ہے

(BBC Sport Olympics (In English

لائیو: اولمپکس 2012

شروع ہونے والے ایونٹ

مقابلے آغاز
- -
- -
- -
- -
- -

مکمل شیڈول دیکھیں (انگریزی میں)

تازہ ترین - گولڈ میڈلسٹ

طلائی تمغے انٹرایکٹ کرنے کے لیے کرسر اس کے اوپر لائیں

0 302

میڈل ٹیبل

رینک طلائی تمغے چاندی کے تمغے کانسی کے تمغے

تمغوں کا مکمل ٹیبل دیکھیں

تفصیل

رینک
رینک طلائی تمغے چاندی کے تمغے کانسی کے تمغے

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔