اولمپکس کا پہلا معذور ایتھلیٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پسٹوریس پیدائشی طور پر معذور ہیں

آسکر پسٹوریس نے مردوں کے چار سو میٹر کے سیمی فائنل مقابلوں میں شکست کے بعد کہا ہے کہ انھوں نے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے اور لندن اولمپکس میں شرکت کرنے کا ہدف حاصل کر کے وہ کوئی بات ثابت کرنا نہیں چاہتے تھے۔

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے پچیس سالہ آسکر پسٹوریس نے لندن اولمپکس میں شرکت کا ہدف حاصل کرکے یقینی طور پر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

آسکر پسٹوریس پیدائشی طور پر دونوں ٹانگوں میں گھٹنوں اور پنڈیلیوں کے درمیان کی ہڈی سے محروم تھے۔ چلنے کی عمر سے پہلے ہی ان کی دونوں ٹانگوں کو گھٹنوں سے نیچے کاٹ دیا گیا۔ پسٹوریس نے مصنوعی ٹانگوں کے ساتھ چلنا سیکھا اور بچپن میں وہ انتہائی پھرتیلے تھے۔ سولہ برس کی عمر میں وہ ایک اتھیلٹ کے طور پر اپنے نام بنا چکے تھے۔

انھوں نے سنہ دو ہزار چار کے ایتھنز پیرا اولمپکس میں انہوں نے دو سو میٹر میں طلائی اور سو میٹر میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

پسٹوریس نے اتوار کو ہونے والے سیمی فائنل مقابلوں میں آٹھویں پوزیشن حاصل کی اور یوں وہ فائنل میں پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

ان مقابلوں کے بعد انھوں نے کہا کہ وہ کچھ ثابت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اپنی پوری کوشش کرنا چاہتے اور جتنا زور مکمن تھا وہ لگانا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا انھیں یہ سب کچھ بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے لیکن جو حمایت اور محبت لوگوں سے ملی ہے اس سے ان میں مزید انکساری آئی ہے۔

’ستر ہزار لوگوں کے سامنے دوڑنا ناقابلِ یقین تھا۔ اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ ایک لاکھ ستر ہزار لوگوں کے سامنے دوڑ رہے ہوں۔‘

سنہ دو ہزار آٹھ میں کھیلوں کی ثالثی کرنے والی عدالت نے انھیں عام مردوں کے مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی۔

پسٹرویس نے چار سو میٹر کے ابتدائی مقابلوں میں مطلوبہ فاصلہ پینتالیس آعشاریہ چار چار سیکنڈ میں طے کیا تھا۔ لیکن سیمی فائنل میں ہو اتنی اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے اور انہوں نے وہی فاصلہ چھالیس آعشاریہ پانچ چار سیکنڈ میں طے کیا۔

وہ مردوں کی چار سو ضربِ چار سو میٹرریلے ریس میں بھی شرکت کر رہے ہیں جس کے بعد وہ پیرا اولمپکس میں شرکت کریں گے۔

.