ایلکس شوازر نے ممنوعہ ادویات کا استعمال کیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایلکس شوازر اٹلی کے لیے تمغوں کی دوڑ میں ایک اہم امید تھے۔

منگل کے روز اٹلی کی اولمپک کمیٹی نے بتایا کہ پیر کو ہونے والی پچاس کلومیٹر کی واک ریس مقابلے میں چیمپیئن کھلاڑی ایلکس شوازر کو شرکت سے روکنے کی وجہ ڈوپنگ یعنی ممنوعہ ادویات کا استعمال تھا۔

تیئس جولائی کو عالمی ادارہ برائے ڈوپنگ یعنی واڈا کے زیرِ انتظام کیے گئے ایک ٹیسٹ میں ایلکس شوازر ایتھروپوٹین (ای پی او) نامی ممنوعہ دوا کے استعمال کے مجرم پائے گئے۔ البتہ اس بات کا پیر کو ہی انکشاف کیا جا چکا تھا کہ شوازر اس ریس میں حصہ نہیں لیں گے، اس کی وجہ آج اٹلی کی اولمپک کمیٹی نے ظاہر کی۔

ایلکس شوازر اٹلی کے لیے تمغوں کی دوڑ میں ایک اہم امید تھے۔

واک ریس ایک ایسا کھیل ہے جس میں شرکاء کو دوڑ کے دوران تمام وقت کم از کم ایک پاؤں زمین پر رکھنا لازمی ہے۔

ای پی او ایک پرفارمنس بڑھانے کے لیے بلڈ بوسٹر ہے۔ اس کے استعمال سے کھلاڑی اپنے خون میں ریڈ بلڈ سیلز یعنی لال خلیوں کی تعداد میں اضافے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایلکس شوازر چار سال قبل بیجنگ اولمپکس میں اٹلی کے لیے ایک ہیرو بن گئے تھے جب انہوں نے شدید کٹھن موسمی حالات کے باوجود اس دوڑ میں طلائی تمغے جیتنے کے ساتھ ساتھ بیس سالہ اولمپک ریکارڈ بھی توڑا۔

اس سے قبل اولمپکس منتظمین نے کہا تھا کہ ممنوعہ ادویات کے استعمال کا پتہ لگانے کا مضبوط نظام موجود ہے اور دھوکے باز کھلاڑی اس نظام سے بچ نہیں سکیں گے۔

اولمپکس کمیٹی کا یہ بیان اس وقت آیا جب ایک امریکی کوچ نے سولہ سالہ چینی ایتھلیٹ پر ممنوعہ ادویات کے استعمال کا الزام لگایا تھا۔ اولمپکس کمیٹی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ چینی اتھلیٹ یی شی ون کے خلاف ڈوپنگ کا کوئی الزام نہیں ہے۔ ایک امریکی کوچ نے یی شی ون کی سوئمنگ کے چار سو میٹر میں ریکارڈ توڑ کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا اسے ’پریشان کن‘ قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں