ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ دوڑ کر بھی فاتح

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ کے اتھلیٹ مانٹیو مچیل نے انکشاف کیا ہے کہ وہ مردوں کی چار سو میٹر ریلے دوڑ کے دوران اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھے تھے۔

مچیل امریکی ٹیم کا حصہ ہیں جو وہ لندن اولمپکس کے جمعے کو ہونے والے فائنل کے لیے کوالیفائی کرچکی ہے۔

مچیل کی انجری کے باوجود امریکی ٹیم اب تک کی دوسری تیز ترین ٹیم قرار پائی ہے۔

مچیل نے بتایا کے ’دوڑ کے دوران جونہی میں نے دو سو میٹر کا نشان عبور کیا تو اگلے قدم پر ہی مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ میرے ٹانگ ٹوٹ چکی ہے۔ ‘

’میں نہیں چاہتا تھا کہ کہ باقی کے تین لڑکے اور ٹیم پیچھے رہ جائے، اس لیے میں بھاگتا رہا۔‘

ٹانگ زخمی ہونے کے باوجود مچیل نے اپنی دوڑ کا ابتدائی حصہ چھیالیس اعشاریہ ایک سیکنڈ میں پورا کر لیا۔

پچیس سالہ مچیل کا کہنا تھا کہ ’بہت بُرا درد ہو رہا تھا۔ میں بہت حیران ہوں کے میں نے ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ بھی دوڑ پنتالیس سیکنڈ میں پوری کر لی۔‘

امریکی ٹریک اینڈ فیلڈ کے سربراہ میکس سیگل کا کہنا ہے کہ ’ماینٹو قابلِ تقلید ہیں اور وہ اپنے ٹیم کے لیے ایک ہیرو بن گئے ہیں۔‘

’ان کی ہمت اور دوڑ مکمل کرنے کے ارادے کی مضبوطی کے بنا امریکی ٹیم فائنل تک نہ پہنچ پاتی۔‘

امریکی ٹیم اس مقابلے کی دفاعی چیمپئین ہے اور اب تک کے تمام مقابلے جیت چکی ہے۔