آسکر کے لیے میڈل جیتنے کا ایک اور موقع

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آسکر پسٹوریئس عام اولمپکس میں کسی مقابلے میں حصہ لینے والے پہلے معذور ایتھلیٹ ہیں

عالمی ایتھلیٹکس فیڈریشن نے جنوبی افریقہ کی چار ضرب چار سو میٹر ریلے ریس کی ٹیم کو لندن اولمپکس میں اس ریس کے فائنل میں شرکت کی اجازت دے دی ہے۔

اس اجازت کی بدولت ’بلیڈ رنر‘ کے نام سے معروف جنوبی افریقہ کے معذور ایتھلیٹ آسکر پسٹوریئس کے اولمپکس میں تمغہ جیتنے کے امکانات ایک مرتبہ پھر روشن ہوگئے ہیں۔

پچیس سالہ آسکر پریسٹوریئس کی ٹانگیں بچپن میں کاٹ دی گئی تھیں اور وہ چار مرتبہ پیرالمپکس میں طلائی تمغہ جیت چکے ہیں۔

انہوں نے مصنوعی ٹانگوں کی مدد سے چار سو میٹر کے انفرادی مقابلوں میں حصہ لے کر نئی تاریخ رقم کی تھی۔ وہ عام اولمپکس میں کسی مقابلے میں حصہ لینے والے پہلے معذور ایتھلیٹ ہیں۔

جنوبی افریقی ٹیم کوالیفائنگ مقابلوں میں اس وقت باہر ہوگئی تھی جب ریس کے دوران ٹیم کے رکن اوفنسے موگاوانے کینیا کے ایتھلیٹ سے ٹکرا کر گر پڑے تھے۔

جنوبی افریقہ نے اس واقعے کے خلاف اپیل کی تھی اور عالمی ایتھلیٹکس فیڈریشن نے فوٹیج کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ جنوبی افریقی ایتھلیٹ کا راستہ روکا گیا تھا اور اسی بنیاد پر جنوبی افریقی ٹیم کو فائنل میں جگہ ملی ہے۔

جنوبی افریقہ نے گزشتہ برس عالمی چیمپیئن شپ میں اس ریلے ریس میں نقرئی تمغہ جیتا تھا تاہم پریسٹوریئس اس ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔

اسی بارے میں