اولمپکس میں امریکہ کا نیا ریکارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ Press Association

لندن المپکس میں چودہویں روز امریکہ نے خواتین کی 4x100 میٹر ریلے دوڑ میں نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے طلائی تمغہ جیتا ہے ہے۔

امریکہ کی خواتین نے اولمکپس میں ستائیس سال پرانا ریکارڈ توڑا ہے۔

ٹيانا میڈسن، ایلسن فیلكس، بيانكا نائٹ، كارمیلٹا جیٹر کی امریکی ٹیم نے چالیس اعشاریہ بیاسی سیکنڈ میں دوڑ مکمل کی۔

پہلے یہ ریکارڈ مشرقی جرمنی کے نام تھا، جوانیس سو پچاسی میں اکتالیس اعشاریہ سینتیس سیکنڈ میں بنا تھا۔

امریکی ٹیم بیجنگ اولمپکس کے فائنل تک پہنچنے میں ناکام رہی تھی۔ تاہم اس مرتبہ انہوں نے تیز ترین ٹیم کی حیثیت سے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا اور فائنل میں ابتدا سے ہی برتری قائم رکھی۔

میڈیسن نے امریکی ٹیم کو برق رفتار آغاز دیا فیلکس اور نائٹ نے برتری برقرار رکھی اور سو میٹر دوڑ میں چاندی کا تمغے جیتنے والی جیٹر نے آندھی کی مانند بڑھتے ہوئے طلائی تمغہ اپنے ملک کے نام کر دیا۔

دوڑ جیتنے کے بعد جیٹر کا کہنا تھا ’میں جانتی تھی کہ یہ لڑکیاں دل لگا کر بھاگیں گی۔ میں جانتی تھی کہ ہم تیز بھاگ رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں نے کہا یہ نہیں کر سکیں گی لیکن ہم نے کر دکھایا۔‘

ٹیم کا حصہ اور دو سو میٹر کی دور کی فاتح فیلکس کا کہنا تھا کہ ’اس ٹیم کا حصہ ہونا ایک فختر ہے۔کس نے سوچا تھا کہ آج ہم ایک عالمی ریکارڈ بنا دیں گے۔ یہ خیران کن ہے۔ ہمارے نام تاریخ میں لکھے جائیں گے۔‘

اسی بارے میں